کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 609
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مختصر سا تلبیہ بھی مروی ہے جس کے صرف یہ تین ہی الفاظ ہیں: (( لَبَّیْکَ اِلٰہَ الْحَقِّ، لَبَّیْکَ )) [1] ’’میں حاضر ہوں، اے معبودِ برحق ! میں حاضر ہوں۔‘‘ آدابِ تلبیہ: مردوں کے لیے تو یہ تلبیہ بلند آواز سے پڑھنا ضروری ہے، مگر خواتین کو اجازت ہے کہ وہ اپنی آواز کواس قدر دھیما اور پست رکھیں جسے وہ خود یا صرف ان کی ساتھی خواتین ہی سن سکیں۔ فضائلِ تلبیہ: سنن ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم اورمسند احمد میں حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے صحابہ کو حکم فرمائیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ کہیں، کیونکہ یہ شعائرِ حج میں سے ایک شعار ہے۔‘‘[2] اس تلبیے کی فضیلت کا اندازہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے بھی ہوجاتا ہے جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں والے تمام پتھر، درخت اورمٹی بھی تلبیہ کہنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے دائیں بائیں سے زمین منقطع ہوجاتی (تلبیہ کہنے لگتی) ہے۔‘‘ صحیح بخاری اور سنن بیہقی میں مذکور ایک حدیث سے پتا چلتا ہے کہ احرام باندھنے سے لے کر حدودِ حرم تک یہ تلبیہ جاری رہنا چاہیے۔[3] [1] سنن النسائي (۵- ۱۶۱) سنن ابن ماجہ (۲۹۲۰) سنن البیہقي (۵- ۴۵) مستدرک الحاکم (۱- ۴۵۰) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۹۲۳) صحیح ابن خزیمۃ، رقم الحدیث (۲۶۲۸) صحیح ابن حبان (۹۷۴) [3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۲۸) سنن ابن ماجہ (۲۹۲۱) صحیح ابن خزیمۃ (۲۶۳۴)