کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 575
تختے جب بھی ٹھنڈے ہو جائیں گے تو ان کو دوبارہ گرم کیا جائے گا، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، پھر وہ جنت یا جہنم کی طرف اپنی راہ دیکھ لے گا۔‘‘ اسی طرح اونٹ یا گائے والا جو بھی ان کی زکات ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کو چٹیل میدان میں بچھا دیا جائے گا، پھر اس کے اوپر سے گزرتے ہوئے اپنے کُھروں سے اس کو روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے، اس کا آخری حصہ جب بھی اس پر سے گزرجائے گا تو اس کا پہلا حصہ پھر لوٹ آئے گا اور یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس دن [جانوروں] کے ذریعے اس آدمی کو عذاب دیا جائے گا، اس کے بعد وہ جنت یا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔[1] قرآن و سنت کی یہ دونوں عظیم دلیلیں سونے اور چاندی کی تمام چیزوں کو شامل ہیں، ان میں سونے چاندی کے زیورات بھی داخل ہیں جن پر زکات فرض ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابو داود اور امام نسائی نے حسن سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’کیا ان کی زکات دیتی ہو؟‘‘ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم چاہتی ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمھیں ان دونوں کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے؟‘‘ اس عورت نے اسی وقت انھیں نکال کر زمین پر پھینک دیا اور کہہ دیا: ’’یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔‘‘[2] حافظ ابن قطان نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔ سنن ابو داود میں جید سند کے ساتھ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سونے کی پازیب پہنا کرتی تھیں، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’کیا یہ کنز (خزانہ) ہے؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر وہ سونا جو نصاب کو پہنچ جائے اور اس کی زکات ادا کر دی جائے وہ خزانہ (کنز) نہیں کہلائے گا۔‘‘ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۸۷) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵۶۳) سنن النسائي، رقم الحدیث (۲۴۷۹) بسند حسن۔