کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 567
مسنون حج و عمرہ اور زکات اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت حمد و ثنا اور خطبہ مسنونہ کے بعد: سورۃ البقرہ (آیت: ۴۳) میں ارشادِ ربانی ہے: { وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ} ’’اور نماز پڑھا کرو اور زکات دیا کرو اور (اللہ تعالیٰ کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔‘‘ معمولی بصیرت والا ہر مسلمان بھی یہ جانتا ہے کہ ارکانِ اسلام میں ایمان، نماز اور روزہ کے بعد زکات دینِ اسلام کا انتہائی اہم رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عظیم کے بیشتر مقامات پر زکات و نماز کو یکجا بیان فرمایا ہے اور کم و بیش اسی (۸۰) مرتبہ اس کا حکم دیا گیا ہے۔ زکات کی تعریف: زکات کا لغوی معنی ہے: ’’بڑھنا، پاک ہونا‘‘، سورۃ الاعلی (آیت: ۱۴) میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے: {قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی} ’’وہ شخص کا میا ب ہو گیا، جس نے اپنے آپ کو پاک کیا۔‘‘ عربی لغت میں لفظ ’’زکات‘‘ پاکیزگی اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شریعت میں ’’زکات‘‘ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصے کو کہا جا تا ہے جو مخصوص لوگوں کو د یا جاتا ہے۔ اسے ’’زکات‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیۂ نفس ہو تا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ’’زکات‘‘ کے لیے قرآن وسنت میں ’’صدقے‘‘ کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ سورت توبہ (آیت: ۱۰۳) میں فرمانِ الٰہی ہے: { خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا} ’’ (اے میرے نبی !) آپ ان کے مالوں سے صدقہ لے لیجیے، جس کے ذریعے آپ ان (کے اموال) کو پاک کیجیے اور ان کے نفوس کا تزکیہ کیجیے۔‘‘