کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 552
(( اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا )) [1] ’’اے اللہ! تو بہت معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ پس تو مجھے معاف کردے۔‘‘ اس کے علاوہ اور بھی دعائیں کرسکتے ہیں، خاص کر رات کے آخری پہر میں جب اللہ تعالیٰ خود آسمانِ دنیا پر نزول فرماکر لوگوں سے کہتا ہے کہ مجھ سے مانگو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔ احکام و مسائلِ اعتکاف: رمضان المبارک کی عبادات میں سے ایک خصوصی عبادت اعتکاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بھی خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے، رمضان کے آخری دس دن رات مسجد کے ایک گوشے میں گزارتے اور دنیوی معمولات اور تعلقات ختم فرما دیتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی پابندی سے اعتکاف فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ اعتکاف نہ بیٹھ سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا۔[2] جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں دس دن کے بجائے بیس [۲۰] دن اعتکاف فرمایا۔[3] اعتکاف کا معنی ہے: ’’یکسوئی سے بیٹھے رہنا۔‘‘ اس عبادت میں انسان صحیح معنوں میں سب سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کے گھر میں یکسو ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہوجائے۔ چنانچہ وہ اس گوشۂ خلوت میں بیٹھ کر توبہ و استغفار کرتا ہے، نوافل پڑھتا ہے، ذکر و تلاوتِ قرآن کرتا ہے، دعا و التجا کرتا ہے اور یہ سارے ہی کام عبادات ہیں۔ اس اعتبار سے اعتکاف گویا مجموعہ عبادات ہے۔ بنیادی طور پر اعتکاف کے لیے کوئی وقت یا مدت متعین نہیں، جس وقت اور جتنی مدت کے لیے کوئی چاہے اعتکاف کرسکتا ہے، البتہ مسنون اعتکاف یہ ہے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں یعنی بیس رمضان کو مغرب کے بعد سے لیکر عید کا چاند دیکھنے تک اعتکاف کیا جائے، چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: [1] مشکاۃ المصابیح (۱/ ۶۴۶) و صححہٗ الترمذي والألباني۔ [2] صحیح البخاری، باب الاعتکاف في شوال، رقم الحدیث (۲۰۴۱) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۰۴۴)