کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 545
8. صرف ہفتے کا روزہ: ایسے ہی صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھنا بھی امام ابو حنیفہ، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ اور جمہور اہلِ علم کے نزدیک مکروہ ہے، کیونکہ سنن ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو سوائے اس کے کہ وہ فرض ہو۔‘‘ اگر اس کے ساتھ ہی جمعے یا اتوار کا روزہ بھی رکھ لیا جائے تو مکروہ نہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت ملتی ہے، وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھا کرتے تھے۔[1] 9. شک کا روزہ: ایسے ہی رمضان سے ایک دن پہلے محض اس بنا پر روزہ رکھنا کہ شاید چاند ہوگیا ہو مگر کسی وجہ سے نظر نہیں آسکا۔ یہ شک کا روزہ بھی منع ہے اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام روزے داروں کے صیام وقیام کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔سال کے دوران میں مسنون روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور جن دنوں یا جس انداز سے روزے رکھنا حرام اور مکروہ ہے، ان سے ہمیں محفوظ رکھے، کیونکہ ارشادِ الٰہی ہے: { ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ} [الحجرات: ۱] ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔‘‘ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: { وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا} [الحشر: ۷] ’’جو کچھ رسول دیں، وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں، اس سے رک جاؤ۔‘‘ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے معاملے میں جو کام ساری حیاتِ طیبہ میں نہیں کیا، وہ کام اپنی مرضی سے کرکے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی جسارت نہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو سنت کے مطابق نیک کام کرنے کی توفیق سے نوازے، ہمیں ہر قسم کے شرسے محفوظ رکھے اور ہمارا خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین ثم آمین [1] البدر المنیر بحوالہ الفتح الرباني (۱۰- ۲۲۱)