کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 536
ہی کرے گا تو قضا کرنا نفلی روزے رکھنے سے افضل ہے۔ تاہم ان چھے نفلی روزوں کا وقت صرف ایک ماہ یعنی ماہ شوال ہے اور قضا کا وقت آئندہ رمضان تک پورا سال ہے، لہٰذا پہلے نفلی رکھ لینا جائز ہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمل اس طرح منقول ہواہے۔ نفلی روزے اور ممنوع روزے نفلی روزے اور ان کی نیت و فضیلت: نفلی روزے کی نیت دن میں کسی وقت بھی کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ رمضان المبارک کے فرضی روزوں کے علاوہ بھی سال کے مختلف اوقات میں کچھ روزے ثابت ہیں، لہٰذا بہتر معلوم ہوتا ہے کہ غیر رمضان کے روزوں کے بارے میں بھی کچھ وضاحت کردی جائے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس نے جہاد کے دوران میں ایک دن کا نفلی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت کے برابر جہنم سے دور کردیں گے۔‘‘[1] شوال کے چھے روزے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جن نفلی روزوں کا ثبوت ملتا ہے، اُن میں سے ایک تو ماہِ شوال کے چھے روزے ہیں جو عموماً عیدالفطر کے اگلے دن سے شروع کرکے مسلسل یا الگ الگ کرکے پورے ماہ ِشوال میں رکھ لینا دونوں طرح ہی جائز ہے، صرف افضلیت میں ائمہ کا معمولی اختلافِ رائے ہے۔[2] شوال کے ان چھے روزوں کی مشروعیت وثواب کے بارے میں صحیح مسلم، سنن ابو داود، ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے مہینے میں بھی چھے روزے رکھے تو اُس نے گویا ہمیشہ(سال بھر) کے روزے رکھے۔‘‘[3] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۶۸۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۵۳) [2] الفتح الرباني (۱۰- ۲۱۷، ۲۱۸) نیل الأوطار (۲- ۴- ۲۳۸) [3] حوالہ سابقہ و مشکاۃ المصابیح (۱- ۶۳۵)