کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 515
’’جس شخص نے فجر سے پہلے روزے کی نیّت اور پختہ ارادہ نہ کیا، اس کا کوئی روزہ نہیں۔‘‘[1] البتہ نفلی روزے کی نیت دن میں کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے۔ بعض دیگر احادیث سے رات کے وقت یا قبل از فجر روزے کی نیت کرلینے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ نیت کیا ہے؟ نیت محض دل کا قصد و ارادہ ہے اور اسے ادا کرنا (تلفظ) ثابت نہیں ہے، خصوصاً نمازو روزہ اور غسل و وضو وغیرہ کی نیت زبان سے کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفاے راشدین اور عام صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کرام و ائمہ عظام رحمہم اللہ میں سے کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔ البتہ حج و عمرہ اور قربانی کے وقت زبان سے یہ کہنا درست ہے، جیسے ایک حدیث میں ہے: (( اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ )) ’’اے اللہ! میں شبرمہ کی طرف سے حج کے لیے حاضر ہوا ہوں۔‘‘ ایسے ہی (( بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ عَنِّیْ وَعَنْ فُلَانٍ )) والی حدیث ہے: ’’اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ اور تو سب سے بڑا ہے۔ یہ (قربانی) میری طرف سے اور فلاں کی طرف سے قبول فرما۔‘‘[2] جن اعمال کے لیے زبانی نیت ثابت ہے، ان کی نیّت تو زبان سے کی جاسکتی ہے، لیکن جن کی ثابت نہیں ان کی نیّت بھی زبان سے کرنا ہرگز صحیح نہیں اور ہمیں یہی چاہیے کہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کیا وہاںہم بھی اتنا کچھ کریں اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کیا، وہاں ہمیں بھی کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ اتباعِ سنت اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہی ہے۔ 6. سحری کرنا سنت اور باعثِ برکت ہے: ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’ہمارے اور اہلِ کتاب (یہودونصاریٰ) کے روزوں کے درمیان سحری کھانے ہی کا فرق ہے۔‘‘[3] لہٰذا بعض لوگ جو افطاری سے نصف شب تک کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے ہی رہتے ہیں اور سحری کے وقت کچھ کھائے پیے بغیر ہی سوجاتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کے پاس مزید کھانے کی کوئی [1] إرواء الغلیل (۴- ۲۵) وصحّحہ، مشکاۃ المصابیح (۱- ۶۲۰) الفتح الرباني (۹- ۲۷۵، ۲۷۶) [2] فتاویٰ علماے حدیث (۶/ ۹۴، ۹۵) [3] فتح الباري (۱۰- ۱۷)