کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 499
8. اگر روزے داروں نے صحیح معنوں میں روزے رکھ کر ان کے تقاضوں کو پورا کیا ہو تو رمضان کی آخری رات میں ان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ 9. سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔[1] رمضان کا استقبال: اس مہینے کے اور بھی بہت فضائل و برکات ہیں جن کو حاصل کرنے کے لیے اللہ کے نیک بندے اس کا استقبال اس طرح کرتے ہیں کہ غفلت کے پردے چاک کردیتے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں توبہ و استغفار کے ساتھ یہ عزم [اللہ سے وعدہ] کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک مرتبہ پھر اس ماہِ مبارک کی سعادتوں سے نوازا ہے تو کیوں نہ ہم اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کی فضیلت حاصل کریں اور اپنے اوقات کو اللہ کی عبادت کرنے اور اعمالِ صالحہ بجا لانے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے میں صرف کریں۔ ماہِ رمضان کے بابرکت ہونے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس کے دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں کوئی ایسی برکت شامل ہے جو لوگوں کو خود بہ خود حاصل ہوجاتی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے ایسے مواقع پیدا کردیتے ہیں جن کی بدولت بندے بے حساب برکات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس مہینے میں ایک مسلمان جتنی زیادہ عبادت کرے گا اس کے لیے اتنی زیادہ روحانی ترقی کا وسیلہ بنے گی، کیونکہ اس مہینے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اس مہینے میں انسان جو بھی نیک عمل کرتا ہے، اس کا اجر اسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ملتا ہے۔‘‘[2] 4. رمضان کے روزے کب فرض ہوئے تھے؟ یاد رہے کہ رمضان المبارک کے روزے ۲ھ ماہ شعبان کی دو تاریخ بروز پیر کو فرض کیے گئے تھے۔[3] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۸۰۰) و صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۷۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۸۹۴) [3] نیل الأوطار (۲- ۴- ۱۸۶) فقہ السنۃ (۱- ۴۳۳)