کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 476
کہتے تھے؟ حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے۔ وہ جواب دیتے ہیں: وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، واللہ! انھوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوتا اگر وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی اور تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے: کیا انھوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: نہیں، واللہ! اے ہمارے رب! انھوں نے جنت نہیں دیکھی۔ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے: ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انھوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے جنت دیکھی ہوتی تو وہ اس کے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلبگار اور آرزو مند ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: دوزخ سے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے: کیا انھوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، واللہ! انھوں نے جہنم کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر انھوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کر دی۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ’’ذاکرین‘‘ میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ ’’ذاکرین ‘‘وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔‘‘[1] اہلِ ذکرکو (جو مسنون اذکار کے ساتھ اپنی مجالس کو آباد رکھتے ہیں) فرشتے اپنے پروں کے [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۴۰۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۸۹)