کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 442
درود شریف: (( اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَّمَدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَٰی (اِبْرَاہِیْمَ وَعَلَٰی) آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَٰی (اِبْرَاہِیْمَ وَعَلَٰی) آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ )) [1] ’’اے اللہ! ہمارے نبی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیج اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل پر بھی، جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام ) اور ان کی آل پر درود بھیجا، یقینا تو تمام تعریفوں والا اور صاحبِ مجد و ثنا ہے۔ اے اللہ! ہمارے نبی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکتیں نازل فرما، جس طرح تونے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام ) اور ان کی آل پر برکتیں نازل کیں، یقینا تو صاحبِ حمد و مجد ہے۔‘‘ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی نماز پڑھے تو اللہ کی حمد و ثنا سے آغاز کرے، پھر اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، اس کے بعد جو چاہے مانگے۔‘‘[2] التحیات، درود شریف اور دعاؤں سے فارغ ہونے کے بعد ’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ‘‘ کہہ کر نماز ختم کرنا مسنون ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’طہارت نماز کی کنجی ہے۔ نماز کا آغاز تکبیر اور اختتام سلام کہنا ہے۔‘‘[3] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے نماز پڑھنے کے لیے ہمیں کسی بھی مسلک کو سامنے نہیں رکھنا چاہیے، کیونکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر قسم کی نماز کو عمل میں لاکر ہمیں طریقہ بتا دیا ہے، وہ نماز چاہے عام فرض ہو یا نمازِ جمعہ ہو یا تہجد کی نماز ہو یا پھر عید کی نماز ہو یا سنت و نوافل ہوں، نماز سفر کی ہو یا بیماری کی حالت میں پڑھی جانے والی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی نماز ادا کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دکھلائی اور اسی کا حکم بھی فرمایا، جیسا کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] صحیح البخاري (۶- ۴۰۸) صحیح مسلم (۲- ۴- ۱۲۶) [2] سنن الترمذي (۲/ ۲۰۷) [3] سنن الترمذي (۱/ ۱۵)