کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 434
ب۔ اگر وہ جمعہ وغیرہ پڑھ رہی ہیں اور وہاں دوسرے مردبھی ہیں تو پھر خواتین کو صرف اتنی آواز سے آمین کہنی چاہیے کہ ان کی آواز مردوں تک نہ پہنچے۔ بہرحال کوئی نماز میں ہو یا عام حالت میں‘منفرد ہو یا امام و مقتدی، تلاوت کررہا ہو یا سن رہا ہو، اختتامِ فاتحہ پر سب کو آمین کہہ کر اس دعا میں شامل ہو جانا چاہیے۔ واللّٰہُ وَلِيُّ التَّوْفِیْق۔ سکتہ: سورت فاتحہ کے بعد بسم اللہ پڑھ کر قرآنِ کریم کی کوئی بڑی یا چھوٹی سورت یا کسی سورت کا کوئی حصہ پڑھیں۔ جب قراء تِ فاتحہ سے فارغ ہو جائیں تو ایک چھوٹا سا سکتہ کریں، یعنی چند لمحوں کے لیے خاموش کھڑے رہیں۔ جس کا پتا سنن ابو داود اور مستدرک حاکم (۷۹۰) میں وارد بعض احادیث سے چلتا ہے۔[1] حالتِ رکوع: رکوع جانے سے پہلے اور رکوع سے اٹھنے کے بعد تکبیرتحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھانا مسنون ہے، اسے رفع یدین کہتے ہیں۔ لہٰذا دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہیں اور پھر رکوع چلے جائیں۔ رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر اور دبا کر گھٹنوں پر رکھنی چاہئیں۔ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں اپنی انگلیاں کھلی رکھتے اور سجدے میں اپنی انگلیاں ملا کر رکھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں سے گھٹنے مضبوط پکڑلیتے۔[2] رکوع و سجود میں تسبیحات و اَذکار میں چاہے کتنا وقت لگائیں، کارِ ثواب ہے، البتہ ان مواقع پر قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا منع ہے، نماز چاہے فرض ہو یا نفل، کیونکہ صحیح مسلم و ابی عوانہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’خبردار! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، البتہ رکوع میں اپنے پروردگار کی عظمت بیان کرو اور سجدوں میں دعائیں مانگو، سجدے میں کی گئی دعا قبولیت [1] مستدرک الحاکم (ص: ۷۹۰) وصححہ ھو و الذہبي و الألباني في الصلٰوۃ (ص: ۷۲) [2] صحیح البخاري (۱/ ۳۴۳)