کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 428
والی معروف حدیث میں وہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین بیٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت و طریقہ بیان کرتے ہیں۔ اس حدیث کے الفاظ ہیں: (( رَاَیْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ )) [1] ’’میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تکبیر (تحریمہ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھایا۔‘‘ مَرد و زن کے رفع یدین میں عدمِ فرق: احادیثِ شریفہ میں وارد ان حدود (کندھوں تک یا کانوں تک) میں یہ کہیں بھی ذکر نہیں آیا کہ ان میں سے کسی مقام کو مردوں کے لیے خاص کر دیا جائے اور کسی کو عورتوں کے ساتھ مخصوص مان لیں، بلکہ مَرد و زن اس معاملے میں بھی برابر ہیں کہ مَرد اُن (کندھوں تک یا کانوں تک) میں سے جس حد تک چاہیں رفع یدین کریں اور عورتیں بھی جس حد کو چاہیں اختیار کر لیں، کسی کے لیے کسی حد کی کوئی تخصیص حدیث شریف میں ہر گز وارد نہیں ہوئی۔ رفع یدین کے وقت ہاتھوں اور ہتھیلیوں کی کیفیت: اب آئیے یہ بھی دیکھ لیں کہ رفع یدین کے وقت ہاتھوں اور ہتھیلیوں کی کیفیت کیا ہونی چاہیے؟ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ رفع یدین کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر رکھنا چاہیے کہ انگلیاں کھلی ہوں اور مٹھی کی طرح بند نہ رکھی جائیں، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( ثَلَاثٌ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْمَلُ بِہِنَّ قَدْ تَرَکَہُنَّ النَّاسُ‘ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ مَدًّا اِذَا دَخَلَ فِی الصَّلٰوۃِ )) [2] ’’تین کام ایسے ہیں جنھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے اور لوگ انھیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کھول کر رفع یدین کرتے تھے۔‘‘ لہٰذا تکبیرِ تحریمہ اور رفع یدین کا وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم کا اختیار کردہ ہے۔ [1] صحیح البخاري (۲/ ۳۰۵) سنن أبي داود (۲/ ۴۲۷) [2] مشکاۃ المصابیح (۱- ۳۵۲)