کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 423
(( أَشْہَدُ أَنَّ لَّآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمْداً عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ )) پھر اس کے بعد وضو کی دعا کی ہو تو ایسے مومن مسلمان کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہاں سے چاہے گا وہ جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔[1] یہ کتنا بڑا انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان انعام یافتہ لوگوں میں شمار فرمالے۔ آمین یاد رہے کہ وضو کے اعضا میں سے کوئی جگہ خشک نہیں رہنی چاہیے، اگر ناخن جتنی جگہ بھی خشک رہ گئی تو اس کا وضو مکمل نہیں ہوگا۔ اگر وضو نہیں تو نماز بھی نہیں ہوگی اور نماز کے لیے وضو کا مسنون طریقہ یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس نے میرے وضو کی طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں نماز ادا کی اور اس نے اپنے آپ سے (دل ہی دل میں) کوئی گفتگو نہ کی، ایک روایت میں ہے کہ اس میں کوئی بھول نہ کی ہو، تو اس کے گذشتہ تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘[2] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز نمازِ فجر کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ’’اے بلال! اسلام لانے کے بعد تمھارا وہ کونسا (نفلی) عمل ہے جس پر تمھیں اللہ سے بخشش کی بہت زیادہ امید ہے۔ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمھارے چلنے کی آواز سنی ہے؟‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اتنا زیادہ امید افزا عمل تو کوئی نہیں کیا، ہاں ایک کام میں ضرور کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ دن اور رات کے وقت میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہو میں نماز پڑھ لیتا ہوں۔‘‘[3] وضو کرنے کے بعد دو رکعت تحیۃ الوضو کی نماز ادا کرنا مسنون ہے، کیونکہ مذکورہ حدیث کی رو سے تحیۃ الوضو جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ [1] صحیح البخاري، صحیح مسلم، سنن الترمذي (۲/ ۲۵) مشکاۃ المصابیح (۳/ ۴۶) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۸۳۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۲۶) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۰۹۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۴۵۸)