کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 417
{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ} ’’اور دن کے دونوں سروں (صبح اور شام) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دُور کر دیتی ہیں، یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔‘‘ اس آدمی نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حکم میرے لیے خاص ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ میری ساری امت کے لیے ہے۔‘‘[1] لہٰذا آج بھی کسی سے رات کے اندھیرے یا دن کے اجالے میں کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس طرح نماز کے ساتھ اپنے اللہ سے توبہ کرے، یقینا اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے۔ 16. حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانچ کام ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص انھیں ایمان کے ساتھ کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ وہ پانچ کام کیا ہیں؟ 1. جس نے پانچوں نمازوں کی حفاظت کی، ان کے لیے اچھی طرح وضو کیا اور رکوع و سجدہ برابر کیا۔ 2. ان کے وقت کی پابندی کرنے والا۔ 3. رضاے الٰہی کے لیے رمضان المبارک کے روزے رکھنے والا۔ 4. اللہ کے لیے حج کرے۔ اگر وہ وہاں تک جانے پر قادر ہے۔ 5. اگر اللہ تعالیٰ نے اُسے مال و دولت سے نوازا ہے تو وہ خوش دلی سے زکات ادا کرتا ہے۔‘‘[2] 17. اسی طرح ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اس بات کی گواہی دوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور پانچوں نمازیں پڑھوں، زکات دوں، رمضان کے روزے رکھوں اور اس کی راتوں میں قیام کروں تو میں کن لوگوں میں سے ہوں گا؟ تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صدیقین اور شہدا میں سے۔‘‘[3] [1] صحیح البخاري (۲/ ۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۱۱۵) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۲۹) [3] مختصر الترغیب (ص: ۲۶) صحیح الترغیب للألباني (ص: ۳۵۸)