کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 413
{ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَاَحْسَنُ مَقِیْلًا} ’’اس دن اہلِ جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہو گا اور مقامِ استراحت بھی ہو گا۔‘‘ نماز کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ کریم میں اتنا کسی دوسری عبادت کا ذکر نہیں آیا جتنا نماز اور جہاد کا ہے۔ نماز قائم کرنے کے بارے میں جابجا حکم ہے۔ الغرض قرآنِ کریم کے آغاز ہی میں متقی لوگوں کے اوصافِ حمیدہ بیان کرتے ہوئے ایک وصف یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ [البقرۃ: ۳] فرض نمازوں کی اہمیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے حوالے سے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کثیر احادیث و ارشاداتِ گرامی میں بھی نمازِ پنجگانہ اور نمازِ جمعہ کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے: 1. سب سے پہلی حدیث تو وہ ہے جس میں نماز کو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایمان کے بعد سب سے پہلا اور اہم ترین رکن قرار دیا گیا ہے۔ 2. اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔ 3. نماز کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ان الفاظ کے ساتھ اذان دینے کا حکم فرماتے: (( اَقِمِ الصَّلَوٰۃَ یَا بِلَالُ! اَرِحْنَا بِہَا )) [1] ’’اے بلال! ہمیں نماز سے راحت پہنچاؤ۔‘‘ 4. نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں جانے کی ضمانت بھی قرار دیا۔ حضرت ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور دوسری چیزیں لایا کرتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہوکر فرمایا: ’’ربیعہ مانگو! کیا مانگتے ہو؟‘‘ ربیعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر کثرتِ سجود سے میری مدد کرو۔‘‘[2] یعنی تمھارے نامہ اعمال میں کثرتِ نماز میرے لیے سفارش کرنا آسان بنا دے گی۔ 5. صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم [1] سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب في صلوٰۃ العتمۃ، رقم الحدیث (۴۹۸۶) مسند أحمد (۱۲۵) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۸۹)