کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 389
’’مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو)۔‘‘ آیت کے اس حصے میں وضو کے وجوب وفرضیت کے علاوہ طریقہ وضو کے اصول بھی ذکر کر دیے گئے ہیں جس کی تفصیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وعمل میں موجود ہے۔ قرآن کی طرح ہی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روسے بھی وضو کی فرضیت ثابت ہے اور اس کے بارے میں کئی ایک احادیث ہیں جن میں سے ایک صحیح بخاری ومسلم میں مروی ہے جس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کا وضو ٹوٹ جائے (یا سرے سے وضو ہی نہ ہو) تواللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا، جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے۔‘‘[1] فضیلتِ وضو: نعیم بن عبد اللہ مجمر کہتے ہیں، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا تو انھوں نے اچھی طرح پورا وضو کیا۔ پھر کہا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’کامل وضو کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن تمھارے چہرے اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے، پس تم میں سے جو شخص اپنی یہ روشنی بڑھانے کی طاقت رکھتا ہے، تو وہ ضرور ایسا کرے۔‘‘[2] حضرت ابو حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے موجود تھا جبکہ وہ وضو کر رہے تھے اور وہ ہاتھ دھوتے وقت اپنا ہاتھ بغل تک لے جاتے تھے۔ میں نے کہا: ابو ہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ تو انھوں نے کہا: اے ابن فروخ! تم یہاں ہو، اگر مجھے تمھاری موجودگی کا علم ہوتا تو میں ایسا وضو نہ کرتا۔ میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’[جنت میں ] مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا۔‘‘ زر بن حبیش سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے [1] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۳۵) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳/ ۱۰۴) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۳۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۴۶)