کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 365
صدحیف! وہ کہ جس کے موتیوں جیسے دانت پتھر سے توڑے گئے۔ جس کے رخِ انور کو زخمی کیا گیا۔ آج وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔[1] غسل اور تکفین و تدفین: رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صدمے کی وجہ سے تمام صحابہ کرام] کی سراسیمگی حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا یقین نہ آنے کا واقعہ جو ہم نے ذکر کیا ہے، اسی کے پیشِ نظر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی باتیں سنیں، ان کی حالت دیکھی، تو فرمایا: ’’عمر رضی اللہ عنہ ! بیٹھ جاؤ۔‘‘ مگر وہ غم و کرب سے اس قدر مغلوب تھے کہ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ حضرتِ صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے سامنے پا کر صحابہ کرام] ان کی طرف لپک آئے۔ تب انھوں (صدیق رضی اللہ عنہ ) نے وفاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کا خطبہ ارشاد فرمایا، جو بخاری شریف میں یوں مذکور ہے کہ حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَيٌّ لَا یَمُوْتُ‘‘ ’’تم میں جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا (وہ سمجھ لے) وہ تو وفات پا گئے ہیں اور جو کوئی اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا، اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے، اسے ہرگز موت نہیں آئے گی۔‘‘ اس کے بعد سورت آل عمران کی آیت (۱۳۴) تلاوت فرمائی: { وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَ سَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ} ’’محمد بھی تو ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی کتنے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں توتم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟ یاد رکھو جو کوئی الٹا پھرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بن کر رہیں [1] مدارج النبوۃ بحوالہ رحمۃ للعالمین (۱/ ۲۵۱)