کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 355
سے یوں بتلائے بغیر واپس آنے کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری حقیقت بیان فرما دی۔[1] یہود بھی عجیب قوم تھی صرف تین صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں وہ خفیہ طریقے سے ایک سازش کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنا چاہتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ اگر انھوں نے کھلم کھلا یہ کام کیا تو اوس اور خزرج کے مسلمان ان کی تکا بوٹی کر ڈالیں گے۔ اس لیے انھوں نے یہ سازش تیار کی تھی۔ اس سازش کی سزا کے طور پر یہودیوں کے اس قبیلے یعنی بنو نضیر کو حکم دیا گیا کہ وہ دس دن کے اندر اندر اس علاقے سے چلے جائیں، ورنہ ان کو ختم کر دیا جائے گا۔[2] یہ یہودی یہاں سے نکل کر خیبر کے علاقے میں چلے گئے۔ خیبر پہلے ہی یہودیوں کا گڑھ تھا۔ مزید یہودیوں کے وہاں پہنچنے سے ان کی نفرتیں اور بڑھ گئیں اور وہ ایک مرتبہ پھر نئی سازشوں میں مصروف ہوگئے۔ حیی بن اَخطب اور دوسرے یہودیوں نے اب پورے عرب کو مسلمانوں کے خلاف اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے انھوں نے ایسی تر کیبیں لڑائیں کہ پورے عالم عرب کو اسلام کے خلاف متحد کر دیا اور ہر طرف سے فوجیں مدینے کی طرف بڑھنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں غزوہ احزاب یعنی خندق کی جنگ لڑی گئی۔ غزوہ خندق صرف یہود کی سازشوں کی وجہ سے لڑی گئی۔[3] عرب کی تاریخ میں اتنی فوج پہلے کبھی اکٹھی نہیں ہوئی تھی، چنا نچہ مدینے کو بچانے کے لیے خندق کھودی گئی اور مسلمانوں نے اللہ کی مدد اور اپنی ایمانی قوت سے اس جنگ میں بھی فتح پائی اور سازشِ یہود ایک دفعہ پھر ناکام ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچھی طرح جا نتے تھے کہ اب عرب میں اسلام کے اصل اور حقیقی دشمن صرف اور صرف یہود ہی ہیں۔ خندق کی جنگ نے پورے عرب کی اسلام دشمن طاقتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منتشر کر دیا تھا۔ اب صرف یہود باقی تھے اور ان کا سازشی وجود کسی بھی وقت خندق کی جنگ جیسے حالات دوبارہ پیدا کر سکتا تھا۔ چنانچہ جب کفارِ مکہ سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سازشیوں کو سبق سکھلانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تک مدینے سے یہود مکمل طور پر نکالے جاچکے [1] سیرۃ النبيﷺ لابن ھشام (۳- ۱۹۹) زاد المعاد لابن القیم (۳- ۱۲۷) سنن الطبري (۳- ۲۶) [2] صحیح البخاري (۲- ۵۷۴، ۵۷۵) زاد المعاد (۳- ۷۱، ۱۱۰) [3] رحمۃ للعالمین، سید سلیمان منصور پوری (ص: ۱۲۴) زاد المعاد (۳- ۲۷۴)