کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 351
اور خیبر کے علاقوں میں رہایش اختیار کرلی، یہ سارے علاقے مل کر وادیِ فارا ن کہلاتے تھے۔ انھیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن اللہ کا آخری نبی یہاں آئے گا اور وہ اس کی حمایت سے اپنے دشمنوں کو شکست دیں گے اور ایک بار پھر اپنے اپنے علاقے پر قبضہ کرلیں گے۔ انھیں یہ بھی یقین تھا کہ یہ آخری نبی انہی میں سے پیدا ہوگا، کیونکہ جتنے نبیوں کو وہ جانتے تھے، سارے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں ہی سے آئے تھے۔ یہودیوں نے یہاں آکر خوب محنت کی، فصلیں کاشت کیں، کھجوروں اور انگوروں کے باغات لگائے۔ جلد ہی وہ یہاں کے امیر لوگ بن گئے۔ انھوں نے اپنی حفاظت کے لیے بڑے بڑے قلعے اور حویلیاں تعمیر کیں۔ اس لیے یہ بات ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یہود عرب کے اصل باشندے نہیں، بلکہ دوسرے علاقوں سے بھا گ کر آئے ہوئے تھے۔ ان کے اردگرد یثرب کے علاقے میں دو بڑے قبیلے تھے: ’’اَوْس‘‘ اور ’’خَزْرَج‘‘ انھوں نے دیکھا کہ ان قبیلوں کے آپس کے تعلقات اچھے نہیں، لڑائی کرنے کرانے اور پھوٹ ڈالنے میں تو وہ پہلے ہی سے ماہر تھے، انھوں نے ان دونوں قبیلوں کو بھی آپس میں خوب لڑایا۔ لڑائی کے لیے اوس اور خزرج کے لوگوں کو تلوار یں اور دوسرا اسلحہ خریدنے کے لیے جو رقم درکار ہوتی، وہ انھیں مہیا کرتے اور اس پر بہت سارا سود یعنی نا جائز منافع بھی لیتے۔ یوں اوس اور خزرج کے اکثر لوگ ان کے مقروض رہتے تھے۔ یہودی قرض دیتے وقت تو بڑے اخلاق سے پیش آتے مگر جب قرض کی مدت ختم ہوتی تو بڑے بے لحاظ اور ظالم بن جاتے۔ وہ ان کے باغات کے پھلوں پر قبضہ کر لیتے، ان کی زمینیں ضبط کر لیتے، اگر کوئی ان سے لڑتا تو وہ دھمکی دیتے کہ جلد ہی ہمارے خاندان میں ایک نبی پیدا ہونے والا ہے، جب وہ آئے گا تو وہ اس کے ساتھ مل کر اپنے دشمنوں کو ختم کر ڈالیں گے۔ انہی حالات میں یہود کو اطلاع ملی کہ مکہ مکرمہ میں بنی اسماعیل کے ایک شخص نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مگر انھوں نے اس خبر کو کوئی اہمیت نہ دی بلکہ ان کے اندر حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ سوچنے لگے کہ آخری نبی تو بنی اسرائیل یعنی یہود کے ہاں پیدا ہونا چاہیے، یہ ہمارے مخالفوں کے درمیان کیسے پیدا ہوگیا؟ بنی اسماعیل کو وہ اپنا مخالف کیوں سمجھتے تھے ؟ اس کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ مختصر یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام