کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 342
مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (۸/ ربیع الاول ۱۳/نبوت بروز پیر ۲۳/ ستمبر ۶۲۲ء) قریبی بستی قبا پہنچے اور وہاں قیام فرمایا اور وہیں مسجد قبا کی بنیاد رکھی جو اسلام میں سب سے پہلی مسجد تعمیر ہوئی جس کے بارے میں قرآن پاک نے {اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی} کے الفاظ میں گو اہی دی کہ یہ تقویٰ کی بنیاد پر تعمیر ہوئی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جو آدمی گھر سے وضو کر کے اس مسجد میں جائے اور (دو رکعت) نماز ادا کرے، اسے عمرے کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ قیامِ قبا کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول (یکم) ہجری بروز جمعہ سوار ہو کر بنی سالم کے گھروں تک پہنچے تو جمعہ کا وقت ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں سو آدمیوں کے ساتھ جمعہ پڑھا۔ یہ اسلام میں پہلا جمعہ تھا (اور وہ مسجد آج تک مسجدِ جمعہ کے نام سے معروف ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جمعہ کے بعد اسی دن مدینہ منورہ میں داخل ہو ئے۔[1] وہاں پہنچ کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں ٹھہرے۔ پھر مسجدِ نبوی تعمیر کی، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے والی اس جگہ میں تعمیر کروائی، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی۔ مسجد سے لگا ہوا اپنا حجرہ تعمیر فرمایا اور یہ وہی حجرہ ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری دن گزار ے اور وہی حجرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بن گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ عدل و انصاف فرماتے اور گھر والوں کے ساتھ اخلاقِ عالیہ سے پیش آتے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف لاتے تو اطلاع دے کر داخل ہوتے۔ جب اندر پہنچتے تو سلام کرتے۔ جب کسی کے یہاں تشریف لے جاتے تو سیدھے دروازے کے سامنے نہ آجاتے بلکہ دائیں یا بائیں پہلو سے آتے اور فرماتے: ’’السلام علیکم‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ جب مجلس میں آتے تو سلام کرتے اور جب جاتے تو سلام کرتے۔ ہمیشہ زبان سے [1] رحمۃ للعالمین (۱/ ۹۱ تا ۹۴)