کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 334
بھی کیاشان ہے! ان کی زبانی ساری بات سن کر بولے: ’’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں۔‘‘ اس پر کہا گیا: ’’تو آپ بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں؟‘‘ جواب میں انھوں نے کہا: ’’میں تو اس سے بھی دور کی باتوں میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہوں۔ صبح و شام آسمان سے جو خبریں آتی ہیں، میں ان میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل سچا مانتا ہوں۔‘‘[1] آپ نے جب کفار کو یہ جواب دیا تو اسی روز سے آپ کا لقب’’ صدیق‘‘ ہوگیا۔ اب کفار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آزمانے کا فیصلہ کیا، اکٹھے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ’’آپ بیت المقدس کے بارے میں بتائیں، یعنی اس کے کتنے دروازے ہیں؟ کتنے ستون ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات سے پہلے بیت المقدس کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ معراج کی رات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ضرور تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دروازے اور ستون وغیرہ گنے نہیں تھے کہ فوراً ان کی بات کاجواب دے دیتے، چنانچہ اس مرحلے پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اور بیت المقدس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ظاہر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے گئے اور نشانیاں بتاتے گئے۔ یہ نشانیاں سن کر کفار حیرت زدہ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تردید نہ کر سکے، بلکہ یہ کہا کہ جہاں تک اوصاف کا تعلق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل ٹھیک ٹھیک بیان کیے ہیں۔ غرض سب باتیں بالکل واضح طور پر بیان فرمائیں۔ یہ سب کچھ سن کر بھی وہ اپنے کفر پے ڈٹے رہے۔ ان کافروں کے متعلق سورت سبا (آیت: ۳۴ تا ۳۶) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَ مَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْھَآ اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ . وَ قَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ . قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ} ’’اور ہم نے جب کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے خو شحال لوگوں نے یہی کہا کہ جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو، ہم اس کو نہیں مانتے اور یہ (مکہ کے) [1] الفتح الرباني (۲۰- ۲۶۴)