کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 326
ہجرتِ صحابہ رضی اللہ عنہم : اسلامی سالِ نو کی آمد اپنے ساتھ جو پیغام اور یادیں لاتی ہے، اُن میں سے تاریخِ اسلام بلکہ پوری تاریخِ انسانی کا اہم واقعہ ’’ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ بھی ہے، جس نے اسلامی تاریخ کو ایک نیا سنہری موڑ دیا۔ ہر نیا سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کو ہجرت کی یادیں تازہ کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ ہجرت ساڑھے چودہ سو برس پہلے رونما ہوا تھا، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث ہوئے تیرہ برس ہوچکے تھے۔ نبوت ملنے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینا شروع کیا، اہلِ قبیلہ، اہلِ مکہ اور قرب و جوار کے لوگوں کو بتایا کہ ہر قسم کی عبادت اور نذر و نیاز کا مستحق صرف ایک اللہ ہے۔ حاجت روائی اور مشکل کشائی کرنے والا بھی صرف وہی ایک مختارِ کُل ہے، تو فطرتِ سلیمہ کے مالک سعادت مند لوگ مسلمان ہونا شروع ہوگئے۔ اُدھر مشرکینِ مکہ نے جب اسلامی تعلیمات کے اس سیلِ نور کو پھیلتے دیکھا تو بگڑ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا بھلا کہا، تکلیفیں پہنچائیں، دھمکیاں دیں اور لالچ کے ذریعے بھی دعوتِ اسلام کی راہ روکنا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تکلیفوں اور دھمکیوں سے دبنے کے بجائے تبلیغِ دین کا یہ سلسلہ جاری رکھا اور ان کے ہر لالچ کو نوکِ پا سے ٹھوکر مار دی۔ معجم طبرانی کبیر و اوسط، ابن جریر اور مسند ابی یعلی کی ایک متکلم فیہ روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں اور کہیں کہ میں اسلام کی دعوت و تبلیغ چھوڑ دوں، تب بھی یہ ممکن نہیں، یہاں تک کہ اللہ کا دین غالب ہو جائے یا اس کی راہ میں مجھے موت آجائے۔‘‘[1] قریشِ مکہ نے اپنے ہتھکنڈوں کے باوجود مسلمانوں کو روز بروز بڑھتے دیکھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایذائیں پہنچانا شروع کر دیا اور ان پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے کہ پڑھ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ [1] تفسیر ابن جریر (۲- ۶۷) البدایۃ (۳- ۴۸) و تعلیقات الألباني علی فقہ السیرۃ (ص: ۱۱۴، ۱۱۵)