کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 325
مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘[1] صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے ہر سیاہ و سرخ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘ امام مجاہد نے کہا ہے کہ ’’اس سے مراد جن و انس ہیں۔‘‘[2] سورۃ الاحقاف (آیت: ۲۹) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرمایا: {وَاِِذْ صَرَفْنَآ اِِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِِلٰی قَوْمِھِمْ مُّنْذِرِیْنَ} ’’اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمھاری طرف متوجہ کیے کہ قرآن سنیں تو جب وہ آپ کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو، جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں۔‘‘ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب جہانوں کے لیے رحمت اور ساری مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہیں، مومنوں کے لیے تو خاص طور پر اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہیں، کیونکہ ان کے لیے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی خیر خواہ تھے، ان کی تکلیف اپنی تکلیف سمجھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر انتہائی شفیق و مہربان تھے، حتیٰ کہ ان کے والدین سے بھی بڑھ کر شفقت فرماتے تھے۔ اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق دیگر تمام حقوق سے مقدم ہے، سورۃ الاحزاب (آیت: ۶) میں فرمانِ الٰہی ہے کہ انسان کو اپنی جان سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے، لیکن رسول اللہ کی ذات مومن کی جان سے بھی زیادہ عزیز ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو تمام عمدہ اخلاق کا حامل بنایا۔ بے شمار لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کی بنا پر اسلام میں داخل ہوئے۔ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت و شرافت سے متاثر ہوا، کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی اور صبرِ جمیل پر فدا ہوگیا۔ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحمل و بردباری سے گھائل ہوا اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت اور قوت سے حیرت زدہ ہوگیا۔ غرض کوئی وصفِ جلیل ایسا نہیں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہرہ ور نہ ہوئے ہوں۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۲۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۰۲) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۲۳، ۳۳۵)