کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 282
نماز میں سورت فاتحہ کی اہمیت: سورت فاتحہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا واجب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اس شخص کی نماز نہیں ہوتی، جس نے سورت فاتحہ نہیں پڑھی۔‘‘[1] اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اس کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بند ے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، جس کا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی رحمت و ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔ لہٰذا میرا بندہ جو سوال کرے گا، اسے ملے گا۔ جب بندہ کہتا ہے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میرے بندے نے میری تعریف کی۔‘‘ کیونکہ تعریف کا اصل مستحق اور حقدار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، اس کا استعمال کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ کلمہ شکر بھی ہے جس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ میزان کو بھر دیتا ہے۔[2] جب بندہ کہتا ہے: {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} ’’بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میرے بندے نے میری ثنا کی۔‘‘ اور ایک مرتبہ یوں فرمایا: ’’بندے نے اپنے کام میرے سپرد کر دیے۔‘‘ اور جب بندہ کہتا ہے: {مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ} ’’انصاف کے دن کا مالک۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔‘‘ اور جب بندہ کہتا ہے: {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۵۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۴۔ ۳۹۶) [2] صحیح مسلم (۱- ۲۲۳)