کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 278
کی منع کر دہ باتوں سے اجتناب کرے اور اس کے واقعات اور مثالوں سے عبرت حاصل کرے۔ اس ساری گفتگو کے بعد کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ قرآنِ کریم کے نورِ ہدایت سے محر وم رہے اور بصیرت حاصل نہ کرے۔ جس شخص نے اس نور کو قبول کر لیا، اس کا اتباع کیا اور اس میں جو کچھ ہے اس کے مطابق عمل کیا، وہی کامیاب اور دنیا و آخرت میں اپنے مطلوب کو پانے والا ہے۔ ایسا خوش قسمت فرد ہی دین و دنیا کی بھلائیاں حاصل کرے گا اور ان کے شرور سے نجات پاجائے گا، کیونکہ جو شخص قرآن مجید کی تعلیمات پر مضبوطی سے جما رہے گا، وہ ہر دور میں گمراہیوں سے محفوظ رہے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰی} [طٰہٰ: ۱۲۳] ’’جس نے میری ہدایت کی پیروی کی وہ نہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا نہ (آخرت میں) نامراد ہو گا۔‘‘ دنیاوی اور برزخی زندگی کی طرح اُخروی زندگی میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے زیادہ محتاج ہوگا اور یہ رحمت بھی قرآن مجید کے ذریعے ہی حاصل ہوگی۔ میدانِ حشر ہو یا میزان، صراط ہو یا جنت؛ ہر جگہ قرآنِ مجید اپنے حاملین کے لیے رحمت کا مژدہ بن کر آئے گا۔ یہ کتابِ الٰہی تمام انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے نازل ہوئی ہے، لیکن اس چشمہ فیض سے سیراب صرف وہی لوگ ہوں گے، جو آبِ حیات کے متلاشی اور خوفِ الٰہی سے سرشار ہوں گے۔ جن کے دل میں مرنے کے بعد اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر جواب دہی کا احساس اور اس کی فکر ہی نہیں اور اس کے اندر ہدایت کی طلب یا گمراہی سے بچنے کا جذبہ ہی نہیں ہوگا تو اسے ہدایت کہاں سے اور کیونکر حاصل ہو سکتی ہے؟ آنکھ والا تیری قدرت کا تماشا دیکھے دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے مراجعِ درس 1. تفسیر ابن کثیر۔ 2. تفسیر السعدی۔ 3. تفسیر احسن البیان۔ فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف 4. عظمتِ قرآن۔ تالیف: فضیلہ الشیخ محمد منیر قمر حفظہ اللہ 5. فضائلِ قرآن مجید۔ تالیف: فضیلہ الشیخ محمد اقبال کیلانی حفظہ اللہ