کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 276
ہے۔ کاش ہم جان سکیںکہ قرآنِ مجید سے غفلت برت کر ہم اپنے آپ پر کتنا بڑا ظلم کر رہے ہیں۔ جو لوگ آج اپنی آنکھوں سے غفلت کی پٹی نہیں اتاریں گے، یقینا وہ قیامت کے روز حسرت و یاس سے اپنے ہاتھوں کو ملتے ہو ئے کہیں گے: {سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ} [القلم: ۲۹] ’’پاک ہے ہمارا رب ، بے شک ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ ایک افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کی تعلیم کا آغاز دنیاوی تعلیم سے کرتے ہیں۔ معیاری سے معیاری سکول تلاش کرتے ہیں۔ اچھا لباس، اچھا کھانا پینا، اچھا رہن سہن مہیا کرتے ہیں، بچوں کے ہر طرح کے ناز و نخرے دیکھتے ہیں اور پیسا پانی کی طرح بہاتے ہیں۔ خود ہر طرح کی تکلیف اور مصیبت برداشت کرتے ہیں تاکہ بچہ اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرکے کسی اونچے اور اعلیٰ منصب پر فائز ہو، یہ سب کچھ کس لیے کہ آدمی سکون کی زندگی بسر کر سکے، کیا آپ جانتے ہیں کہ اتنا سب کرنے کے باوجود ان کا بچہ اونچے اور اعلیٰ منصب پر فائز ہوگا کہ نہیں؟ ہرگز نہیں جانتے کیونکہ مرتبہ و منصب اور عزت و ذلت سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، صرف دنیا کی تعلیم حاصل کرلینے سے منصب و مقام نہیں ملتا۔ جو والدین اپنے بچوں کے لیے قرآنی تعلیم کے لیے سرے سے ہی کوئی فکر نہیں کرتے اور نہ قرآنی تعلیم کے لیے کوئی پیسہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں، یہی وہ والدین ہیں جو اپنی اولاد کی دینی تعلیم سے محرومی کا باعث بنتے ہیں۔ غور فرمائیے! کیا یہ ایک مسلمہ حقیقت نہیں کہ قرآنی تعلیم سے محروم اولاد نہ صرف یہ کہ اپنے والدین کی خدمت گار اور وفادار ثابت نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات اپنے والدین کی ذلت اور رسوائی کا باعث بنتی ہے۔ جو اولاد اس دنیا میں ذلت اور رسوائی کا باعث بنے گی، وہ آخرت میں اپنے والدین کے کس کام آئے گی؟ جبکہ قرآنی تعلیم سے آراستہ اولاد نہ صرف اس دنیا میں اپنے والدین کی خدمت گار اور وفادار ثابت ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اپنے والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنتی ہے۔ اپنی اولاد کو قرآنِ کریم سکھانے والے والدین کو قیامت کے دن ساری دنیا کے سامنے ایسے قیمتی لباس پہنا ئے جائیں گے جو دنیا وما فیہا سے بڑ ھ کر ہیں، لہٰذا تمام والدین کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اپنی اولاد کو قرآنِ مجید کی تعلیم سے محروم رکھ کر وہ کتنا بڑا خسارا مول لے رہے ہیں۔ یہ نہ صرف