کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 268
لیکن اُس دن اعتراف کا کیا فائدہ ۔۔۔؟ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: { وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِئُ وْنَ . لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَۃٍ مِّنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃً بِاَنَّھُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ} [التوبۃ: ۶۵، ۶۶] ’’اور (اے پیغمبر!) اگر تو ان (منافقوں) سے پوچھے (کہ یہ کیا باتیں ہیں؟) تو کہیں گے: ہم تو یونہی گپ شپ اور دل لگی کرتے تھے۔ (اے پیغمبر! ان سے) کہہ دے: کیا تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی ٹھٹھا لگاتے ہو۔ بہانے مت کرو (باتیں نہ بناؤ) تم ایمان لا کر (ایمان کا دعویٰ کر کے) پھر کافر ہوگئے، اگر ہم تم میں سے بعضوں کے قصور معاف بھی کریں تو بعضوں کو ان کے قصور وار ہونے کی وجہ سے سزا دیں گے۔‘‘ پس ایسے شخص کی قیامت کے روز سزا وہی ہوگی جو کفار کی ہے، یعنی ابدی جہنم۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { ذٰلِکَ جَزَآؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْٓا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ ھُزُوًا} [الکھف: ۱۰۶] ’’یہ دوزخ کی سزا ان کو اس لیے ملے گی کہ انھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی۔‘‘ قرآنی آیات کا مذاق اڑانے کی سزا جہنم ہے، جیسا کہ سورۃ الکہف (آیت: ۱۰۶) میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے۔ قرآنی آیات کا مذاق اڑانے والوں کو قیامت کے روز ذلیل و رسوا کرنے کے لیے کسی بھولی بسری چیز کی طرح نظر انداز کر دیا جائے گا، جیسا کہ سورۃ الجاثیہ (آیت: ۳۴، ۳۵) میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ . ذٰلِکُمْ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُوًا وَّغَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ لاَ یُخْرَجُوْنَ مِنْھَا وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ}