کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 251
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے دونوں حصوں کا گورنر دو ایسے صحابہ (حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہما ) کو بنایا جو قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرنے والے تھے۔ قرآن مجید سے صحابہ کرام علیہم السلام کا لگاؤ: صحابہ کرام علیہم السلام ایک دوسرے سے ملاقات کرتے توقرآن مجید سننے سنانے کا شوق ظاہر فرماتے۔[1] صحابہ کرام علیہم السلام عام طور پر سات دنوں میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے۔ 1. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جناب جبریل علیہ السلام کے لہجے میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔[2] 2. حضرت عبداللہ بن مسعود، حضر ت سالم، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابی بن کعب علیہم السلام نے اپنی زندگیاں قرآنِ مجید پڑ ھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔[3] 3. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑ ے رقیق القلب یعنی نرم دل انسان تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو مسلسل آنسو بہتے رہتے۔ تلاوت میں اس قدر رقت ہوتی کہ مشرکینِ مکہ کے بچے، عورتیں اور مرد جمع ہو جاتے اور کھڑے ہو کر قرآن مجید سنتے رہتے۔[4] 4 . حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سورت طور کی تلاوت فرما رہے تھے، جب وہ سورت طور (آیت: ۷) پر پہنچے: { اِِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ} ’’بے شک تیر ے رب کا عذاب واقع ہونے والاہے۔‘‘ تو رونے لگے، بہت روئے حتیٰ کہ بیمار پڑ گئے اور لوگ آپ کی عیادت کے لیے آنے لگے۔[5] 5. صحابہ کرام علیہم السلام اہلِ زبان تھے۔ ان کے سامنے قرآن اترتا تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں پڑھ کر سناتے، اس کے معانی و مطالب اور حقائق و معارف سکھاتے اور اس پر عمل کرنے کا طریقہ سمجھاتے تھے۔ امام ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہمیں قرآن کی تعلیم دینے والے صحابہ کرام حضرت عثمان بن عفان اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما وغیرہ نے بتایا کہ جب وہ دس [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۳۹۱) [2] سنن ابن ماجہ (۱- ۱۱۴) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۹۹۹) [4] صحیح البخاي، رقم الحدیث (۳۹۰۵) [5] الجواب الکافي (ص: ۷۷۱)