کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 239
ہے، جس کی خوشبو عمدہ مگر ذائقہ کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا تُمے کی طرح ہے جس کا ذائقہ کڑوا ہے اور اس کی خوشبو بھی کڑوی ہے۔‘‘[1] تلاوتِ قرآن ۔۔۔ سراسر خیر ہی خیر ہے: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جسے قرآن مجید میں مہارت حاصل ہو وہ (روز ِقیامت) معزز اور فرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پاک کی تلاوت مشکل کے ساتھ (اٹک اٹک کر ) کرتا ہو تو اس کو دو اجر ملیں گے۔‘‘[2] دوہرے اجر و الا: دو اجر اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جبکہ وہ بڑی مشکل کے ساتھ ایک ایک لفظ کو جوڑ جوڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کی تلاوت کرتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث میں اس قسم کے لوگوں کے لیے دہرے اجر و ثواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو اجر و ثواب کی کوئی کمی نہیں، لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ حدیث میں علم سیکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں لگائی گئی۔ قرآنِ پاک کی تلاوت کے متعلق ہی ایک اور حدیث ہے جس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر تے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں تو ان پر سکینت اترتی ہے اور ان کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کا احاطہ کرلیتے ہیں اور اللہ پاک اپنے قریبی فرشتوں میں ان کا ذکر فرماتے ہیں۔‘‘[3] یہ حدیث ان عظیم بشارتوں میں سے ایک ہے جن کی خوشخبری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لو گوں کو دی جو قرآنِ کریم کی تلاوت اور آپس میں ایک دوسرے کو اس کی تعلیم دینے کے لیے اکٹھے ہوتے [1] صحیح البخاري، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم۔۔۔، رقم الحدیث (۵۰۲۷) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۹۸) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۹۹)