کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 164
مشرک پر جنت ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ مشرک پلید ہے اس کا مسجدِ حرام میں داخلہ جائز نہیں، جیسا کہ سورۃ التوبہ (آیت: ۲۸) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا} ’’اے ایمان والو! بے شک مشرک پلید ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجدِ حرام کے قریب نہ آئیں۔‘‘ مشرک واضح طور پر سیدھی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور اس نے شرک کر کے بہت بڑا بہتان باندھاہے، اور وہ توحید کی بلندی سے دور جاگرا، جیسا کہ سورۃ الحج (آیت: ۳۱) میں ارشادِ الٰہی ہے: { وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ} ’’ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے (تو اس کی مثال ایسی ہے) جیسے وہ آسمان سے گر پڑا، پھر پر ندے اس کو اچک لیں یا آندھی اس کو کہیں دور پھینک دے۔‘‘ مشرک کا کوئی عمل قبول کیا جاتا ہے نہ اس کی عبادت ہی، جیسا کہ سورۃ الانعام میں اٹھارہ انبیا کے اسماے گرامی ذکر کرکے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر یہ حضرات بھی شرک کا ارتکاب کر لیتے تو ان کے سارے اعمال برباد ہو جاتے: { وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} [الأنعام: ۸۸] ’’اور اگر (فرضاً) یہ حضرات بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال جو وہ کرتے تھے، یقینا برباد ہوجاتے۔‘‘ اسی طرح سورۃ الزمر (آیت: ۶۵) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ} [الزمر: ۶۵] ’’اے میرے نبی! اگر تونے بھی شرک کیا تو تیرے سارے اعمال برباد ہوجائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائے گا۔‘‘