کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 152
اندرون و بیرون ملک پاکستان کی بڑی بدنامی ہوئی۔ مرکز دعوۃ التوحید اسلام آباد نے اس حادثے کے بعد جامعہ سلفیہ اسلام آباد، جامعہ فریدیہ، جامعہ فرقانیہ، جامعہ رحمانیہ لاہور اور مفتی اعظم سعودی عرب سے اس جعلی بہشتی دروازے کے متعلق فتویٰ حاصل کیا، تو تمام مفتیانِ کرام نے بالاتفاق اس کا نام ’’بہشتی دروازہ‘‘ رکھنے کو ناجائز اور اس سے گزرنے کو شرک قرار دیا اور لکھا کہ ایسا دروازہ گرادینا چاہیے، کیونکہ یہ شرک کا سبب ہے۔[1] لیکن بھر بھی وہاں پر گدی نشین لوگوں سے نذرانے وصول کرتے اور جنت کی ٹکٹیں تقسیم کرتے ہیں، ہمارے حکمران اور بڑے بڑے عہدے دار وہاں دنیا کے مال و دولت کے بل بوتے پر جنت کو خریدنے جاتے ہیں۔ عقل کے اندھے یہ نہیں جانتے کہ جنت دنیا کے مال سے نہیں ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔ قبر پرستی کا شرک آخرت میں انسانوں کی ہلاکت اور بربادی کا باعث تو ہے ہی، دنیا میں اس کے معاشرتی مفاسد، اخلاقی بگاڑ اور دیگر زہریلے ثمرات کا اندازہ بھی درجِ ذیل اخباری خبروں سے لگایا جاسکتا ہے: 1. ضلع بہاولپور میں خواجہ محکم الدین میرائی کے سالانہ عرس پر آنے والی بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات کو سجادہ نشین کے بیٹے نے اغوا کر لیا، جبکہ ملزم کا باپ سجادہ نشین منشیات فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا۔[2] 2. رائے ونڈ میں بابا رحمت شاہ کے مزار پر عرس میں ورائٹی پروگرام کے نام پر لگائے گئے سات کیمپوں میں محافل مجرا جاری ہیں۔ درجنوں نو عمر لڑکیاں فحش ڈانس کرکے تماش بینوں سے دادِ عیش حاصل کر رہی ہیں۔ تماش بین نئے نوٹوں کی گٹھیاں لے کر یہاں پہنچ جاتے ہیں اور رات دو بجے تک گھنگروؤں کی جھنکار پر شرابیوں کا شور سنائی دیتا رہتاہے۔ سائیکل شوز پروگرام میں نو عمر لڑکے لڑکیوں کے روپ میں ڈانس کرکے ہم جنس پرستی کی دعوت دے رہے ہیں۔ عرس میں جوا، شراب نوشی اور اسلحے کی نمایش سر عام ہے۔ شہریوں کے احتجاج کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔[3] [1] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مجلہ الدعوۃ (صفر ۱۴۲۲ھ، مئی ۲۰۰۱ء لاہور، پاکستان) [2] روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور (۱۵ اکتوبر ۱۹۹۲ء) [3] روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور (۶ اگست ۲۰۰۱ء)