کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 139
’’ اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو (کہہ دیجیے:) بے شک میں قریب ہوں، جب مجھ سے دعا کرنے والادعا کرتا ہے تو میں اس کی پکار کو سنتا ہوں۔‘‘ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں مفسرینِ کرام نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جب کوئی شخص مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار یا دعا کو صرف سنتا ہی نہیں بلکہ شرفِ قبولیت بھی بخشتا ہوں۔‘‘ لہٰذا لوگوں کا یہ کہنا اور سمجھ لینا ٹھیک نہیں کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا کب سنتا اور قبول کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو قرآنِ کریم کی اُس آیت پر غور کرنا چاہیے جس میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی سنتا ہے، ویسے ہی وہ گنہگاروں کی بھی سنتا اور اسے شرفِ قبولیت بخشتا ہے، لہٰذا دعا صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہیے، وہی ہماری التجائیں سنتا ہے اور ہماری مصیبتوں کو ٹالتا بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی وسیلے کے بغیر براہِ راست اپنے رب سے مانگیں، جو ہمارا خالق و مالک ہے اور وہی ہماری امیدوں کا مرکز ہے، جیسا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جس چیز کو اللہ تعالیٰ عطا کرے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز کو وہ روک لے، اس کو کوئی دینے والا نہیں۔‘‘[1] سورۃ الاعراف (آیت: ۵۵) میں بھی ارشادِ الٰہی ہے: {اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً} ’’اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے آہ وزاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: ’’لوگو! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو (اور اپنی آوازوں کو پست رکھو) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا ہے نہ غائب، وہ اچھی طرح تمھاری دعائیں سننے والا اور بڑا قریب ہے۔‘‘[2] ایک اور مقا م پر سورت غافر (آیت: ۶۵) میں فرمایا: { فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ} ’’اسی کو پکار و خالص اس کی بند گی کر کے۔‘‘ اسی طرح جن آیات میں دعا کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں یہی کہا گیا ہے کہ بر اہِ راست [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۸۴۴) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (6384)