کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 136
اختلاف کر رہے ہیں اللہ (قیامت کے دن) ان کا فیصلہ کردے گا، بے شک جو شخص جھوٹا ناشکرا ہے اللہ اس کو راہِ ہدایت پر نہیں لگاتا۔‘‘ ایک دوسرے مقام پر سورت یونس (آیت: ۱۸) میں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: { وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّھُمْ وَ لَا یَنْفَعُھُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ} ’’وہ اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہیںکہ نہ وہ ان کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ ان کو نفع دے سکتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے اللہ کے ہاں سفار شی ہوں گے۔‘‘ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { وَکَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لاَ تُغْنِیْ شَفَاعَتُھُمْ شَیْئًا اِِلَّا مِنْم بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَرْضٰی} [النجم: ۲۶] ’’آسمان کے فرشتے تو کتنے ایسے ہیں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آسکتی مگر ہاں اللہ جس کے لیے چاہے حکم دے اور اس کی مرضی ہو(تویہ اور بات ہیں) ۔‘‘ دوسری بات یہ ہے کہ شفاعت بر حق ہے لیکن وہ صرف اللہ ہی کی ملکیت ہے، جیسا کہ سورۃ الزمر (آیت: ۴۴) میںارشادِ الٰہی ہے: { قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ} ’’کہہ دیجیے سفارش تو ساری اللہ کے اختیار میں ہے، آسمانوں اور زمین میں اسی کی بادشاہی ہے۔‘‘ حصولِ شفاعت کی شرائط: شفاعت اللہ تعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے نہ کہ مُردوں سے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ اس کے حصول کے لیے دو شرطیں ہیں: 1. پہلی شرط یہ ہے کہ شفاعت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کی اجازت میسرہو، جیسا کہ سورۃ البقرہ (آیت: ۲۵۵) میں فرمایا گیا ہے: { مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ}