کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 124
’’دین میں زبردستی نہیں ہے، نیک راہی اور گمراہی کھل گئی ہے، پھر جو کوئی طاغوت (جھوٹے خدا) کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط کنڈا تھام لیا، جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ خوب سنتا خوب جانتا ہے۔‘‘ جس کسی نے لا الٰہ الا اللہ کہا، اس نے غیر اللہ کی عبادت سے اظہارِ براء ت کیا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا اپنے کو پابند کیا، یہ وہ عہد ہے جس کی پابند ی کی ذمے داری انسان خود قبول کرتا ہے، جیسا کہ سورۃ الفتح (آیت: ۱۰) میں ارشادِ الٰہی ہے: { فَمَنْ نَّکَثَ فَاِِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا} ’’پس جو کوئی عہد توڑے، اس کے عہد توڑنے کا نقصان اسی کی جان کو ہے اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑا ثواب دیں گے۔‘‘ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ توحیدِ عبادت کا اعلان ہے، کیونکہ ’’الٰہ‘‘ کے معنی معبود کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ماسوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اس کلمے کے معنی کو جانتے ہوئے اسے پڑھنے والا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے شرک کی نفی اور توحید کا اقرار کرنے والا اور اس پر اعتقاد رکھنے والا صحیح معنوں میں مسلمان ہے، جس نے یہ کلمہ پڑھا اور دل کے اعتقا د کے بغیر ظاہری طور پر اس کے تقاضوں کو پورا کیا، وہ منافق ہے اور جو کوئی زبان سے تو اس کلمے کو پڑھے، لیکن اس کے منافی مشرکانہ اعمال کا ارتکاب کرے وہ کافر ہے، اگرچہ وہ اس کلمے کو بار بار دہرائے، جیسا کہ آج کل کے قبر پرست ہیں، جو یہ کلمہ اپنی زبانوں سے پڑھتے ہیں لیکن اس کے معنی کو بالکل نہیں سمجھتے، ان کی عادات و اطوار اور اعمال کے بدلنے میں بھی اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا، وہ لا الٰہ الا اللہ بھی کہتے ہیں اور مدد یا عبدالقادر، یا علی، یا فلاں بھی پکارتے ہیں۔ وہ مُردوں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور مصائب میں ان سے فریاد کرتے ہیں، پہلے مشرکوں نے کلمے کے معنی کو ان سے بہتر سمجھا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لا الٰہ الا اللہ کہنے کا مطالبہ کیا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ ان سے بتوں کی عبادت چھوڑنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اسی لیے انھوں نے کہا: { اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِِلٰھًا وَّاحِدًا} [صٓ: ۵]