کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 96
مولانا اسمٰعیل غزنوی نے غالباً اسلئے مولانا امرتسری کانام شامل نہیں کیاتھا کہ مولانا امرتسری کی عربی تفسیر’’تفسیر القرآن بکلام الرحمان’’سے متعلق ثنائی غزنوی نزاع ہواتھا اور مولانا سید عبدالجار غزنوی نے اس سلسلہ میں ایک رسالہ بنام الکلام المبین بھی لکھا تھا ۔[1](1) مولانا سید اسمٰعیل غزنوی مصنف بھی تھے آپ کی تصانیف حسب ذیل ہیں : 1۔استقلال حج : اس کتاب میں حج کے فضائل بتائے ہوئے ارکان حج کی وضاحت کی گئی ہے ساتھ ہی اس کی دعائیں درج کرکے ان کاترجمہ بھی کیاگیا ہے (صفحات 20طبع اوّل امرتسر 1928ء ) 2۔ تحفہ وہابیہ: یہ کتاب علامہ سلیمان بن سبحان نجدی کی کتاب’’الہدیۃ السنیہ’’کاترجمہ ہے اس میں رجب 1211ھ شیخ احمد بن ناصر بن عثمان نجدی کا مناظرہ مکہ اور محرم الحرام 1218ھ کو امام عبدالعزیز اوّل کے ہمراہ مکہ مرکمہ کے اندر فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوتے وقت شیخ عبداللہ بن الشیخ محمد بن عبدالوہاب کی پہلی تقریر اور 1329ھ میں علامہ نجد الشیخ عبداللطیف کی تقریر درج ہے۔ (صفحات 120طبع امرتسر سن اشاعت ندارد) 3۔ جلالۃالملک ابن سعود: اس کتاب میں ملک عبدالعزیز بن سعود کی ان خدمات کو اجاگر کیاگیا ہے۔جو انھوں نے حرمین شریفین سے متعلق مختلف شہروں اورجگہوں میں کی ہیں (صفحات 28طبع امرتسر 1936ء) 4۔استقلال حجاز: 1925ء میں جب شریف حسین کو اپنی اسلام فروشیوں کی پاداش میں قبرص کی جلا وطنی مل گئی اور سلطان عبدالعزیز بن سعود کا حجاز پر قبضہ ہوگیا تو اہل بدعت نے مختلف انجمن قائم کرکے ابن سعود پر مختلف قسم کے الزامات لگائے یہ کتاب انہیں الزامات کے جواب میں ہے (صفحات20طبع امرتسر 1928ء) [1] اس کی صحیح کیفیت گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ۔(ناشر)