کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 93
مولانا عبدالغفور غزنوی مولانا عبدالغفور غزنوی مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی کے چھوٹے صاحبزادے تھے آپ نے دینی تعلیم اپنے آبائی مدرسہ غزنویہ میں مولانا عبداللہ بن عبداللہ غزنوی،مولانا عبدالجبار غزنوی اور مولانا عبدالرحیم غزنوی سے حاصل کی۔حدیث کی تحصیل شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی سے کی تکمیل کے بعد دارالعلوم تقویۃ الاسلام امرتسر میں تدریس فرماتے رہے مولانا حافظ محمد گوندلوی اور مولانا محمد اسمٰعیل السّلفی آپ کے تلامذہ میں تھے۔1337ھ میں آپ نے تقویۃ الاسلام سے علیحدگی اختیار کرکے اپنا علیحدہ مدرسہ بنام مدرسہ سلفیہ غزنویہ جاری کیا بقول مولوی ابویحییٰ امام خان نوشہروی اس مدرسہ میں طلباء کی تعداد 40کے قریب تھی۔( ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات:175) مولوی سید رفیع الدین بخاری سوہدروی مسلکاً حنفی دیوبندی تھے مولانا مفتی محمد حسن امرتسری کے شاگرد تھے مگر حدیث کی تحصیل آپ نے مولانا عبدالغفور غزنوی سے کی راقم سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں نے جامع ترمذی،سنن ابی داؤد اور صحیح مسلم مولانا عبدالغفور غزنوی سے پڑھی تھیں علاوہ ازیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی بعض کتابیں بھی پڑھی تھیں ۔ مولانا عبدالغفور غزنوی تصنیف وتالیف کا عمدہ ذوق رکھتے تھے تفسیر قرآن پر ان کو مکمل عبور تھا اور حدیث پر ان کی نظر وسیع تھی۔ آپ کی تصانیف حسب ذیل ہیں ۔ 1۔حمائل غزنویہ(قرآن مجید کے حواشی سلفی طرز پر) 2۔مشکوۃ الانوار تسہیل مشارق الانوار۔ اس کتاب میں فقہی ترتیب پر احادیث کوجمع کردیا گیا ہے۔ 3۔ریاض الصالحین مترجم و محشی (اردو مع متن عربی) 4۔بلوغ المرام مترجم و محشی(اردو مع متن عربی) 5۔الحزب الاعظم مدرسہ سلفیہ غزنویہ مولانا عبدالغفور غزنوی کی زندگی تک قائم رہاان کی رحلت کے بعد اپنے منبع یعنی مدرسہ تقویۃ الاسلام میں مدغم ہوگیا بمصداق منہما خلقنا کم فیہا نعیدکم ۔