کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 85
اسلامی میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی مہارت عطافرمائی تھی۔ درس وتدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کا بھی ذوق رکھتے تھے۔ مولوی محمد مستقیم سلفی نے اپنی کتاب’’جماعت اہلحدیث کی تصنیفی خدمات’’میں ان کے درج ذیل تصانیف کا ذکر کیاہے۔ تحفہ الباقی علی الفیہ العراقی شرح نخبتہ الفکر لابن حجر 3۔ تحفہ اہلحدیث ہدایۃ البلید فی رد التقلید تقلید النسیان فی ابطال الاعیان مولانا محمد حسین کے سن ولادت اور سن وفات کا پتہ نہیں چل سکا۔ تاہم آپ نے قیام پاکستان سے قبل امرتسر میں وفات پائی۔[1] [1] مولانا محمد حسین ہزاروی کاتعلق ہری پور ضلع ہزارہ کے غیر مشہور انام گاؤں موضع نوتن سے تھا۔والد کا نام عبدالستار تھا۔دہلی میں شیخ الکل سید نذیر حسین سے بھی حدیث پڑھی۔ امرتسر کی مسجد واقع شریف پورہ میں خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ شعبان 1343ھ میں وفات پائی۔ (مختصراً ماخوذ’’ دیار ہند کے گمنام اکابر’’از محمد تنزیل الصدیقی الحسینی )