کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 84
2۔عقیدہ اہل السنۃ والجماعۃ فی مسئلۃ الاستواء والمیانۃ(عربی) 3۔فتاوی غزنویہ (اردو) 4المجموعۃ الفتویٰ (اردو) 5۔الاربعین فی ان ثناء اللہ لیس علی مذہب المحدثین (اردو) [1] 6۔سوانح عمری مولانا سید عبداللہ غزنوی (اردو) مولانا سید عبدالجبار غزنوی نے 25 رمضان المبارک (جمعۃا لوداع )1331ھ امرتسر میں انتقال کیا۔ مولانا محمد حسین ہزاروی رحمہ اللہ مولانا محمد حسین کاتعلق ہزارہ سے تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے علماء سے حاصل کی۔ جب انہیں امام مولانا سید عبدالجبار غزنوی کے زہد و ورع، للہیت، تقویٰ و طہارت اور تبحر علمی کاپتہ چلا۔ اور اس کے ساتھ مدرسہ غزنویہ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوئیں تو آپ نے امرتسر کارخ کیا۔ اور الامام غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور مدرسہ غزنویہ میں داخلہ لے لیا آپ نے الامام مولانا سید عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ مولانا سید عبداللہ بن عبداللہ غزنوی مولانا سید عبدالاول غزنوی اور مولانا سید عبدالرحیم غزنوی رحمہم اللہ اجمعین سے بھی علوم اسلامیہ میں اکتساب فیض کیا۔ مولانا محمد حسین ہزاروی بلاشبہ ایک ذہین اور نیک سیرت، درویش صنف انسان تھے بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے ان کی خوش خصالی دیکھ کر حضرت الامام نے ان کو اپنی دامادی میں لے لیا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد مدرسہ غزنویہ میں ہی مسند تدریس پر متمکن ہوئے۔ اور ساری زندگی درس و تدریس میں گزار دی۔ بے شمار حضرات نے ان سے حصول علم کیا۔ تفسیر،حدیث، فقہ او ر دیگر علوم [1] یہ کتاب غلط طور پر الامام عبدالجبار سے منتسب ہوگئی ہے، اس کے مرتب مولانا حکیم عبدالحق امرتسری ہیں،حقیقت حال ہے کے لئے کتاب مذکور کو’’داالدعوۃ السلفیہ’’شیش محل روڈ لاہور کی لائبریری میں ملاحظہ کیاجاسکتا ہے (محمد تنزیل الصدیقی الحسینی)