کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 64
مولانا حکیم محمد احسن حاجی پوری بہاری’’افسر الاطباء’’بھوپال [1] ان علمائے کرام سے استفادہ کے بعد حافظ عبدالمنان دہلی چلے گئے اور شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی سے تفسیر حدیث اور فقہ کی تحصیل کی اور شیخ عبدالحق بن فضل اللہ نیوتنی سے بھی استفادہ کیا۔اس کے بعد آپ سید عبداللہ غزنوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں دو سال رہ کر کافی فیض حاصل کیا۔ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ : ’’میری عمر بیس سال کی تھی جب جناب عبداللہ صاحب غزنوی نے مجھے امرتسر میں درس حدیث کی مسند پر بٹھایا۔(تاریخ اہل حدیث :437) امر تسر میں کچھ مدت تدریس فرمائی اور اس کے بعد 1292ھ میں وزیر آباد کو اپنا مسکن بنایا اور’’دارالحدیث’’کے نام سے ایک دینی درسگاہ قائم کی اس درسگاہ سے بے شمار حضرات مستفیض ہوئے اور ان میں سے بعض ایسے حضرات بھی شامل ہیں جو خو دبعد میں مسند تدریس کے وارث بنے آپ نے اپنی زندگی میں 40مرتبہ سے زیادہ صحاح ستہ پڑھایا۔آپ کے تلامذہ کی فہرست طویل ہے تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں ۔ 1۔ مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری 2۔مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی 3۔مولانا ابو القاسم سیف بنارسی 4۔ مولانا فقیر اللہ مدراسی 5۔مولانا عبدالحمید سوہدروی 6۔ مولانا عبدالقادر لکھوی [1] ان کے حالات’’دیار ہند کے گمنام اکابر‘‘از محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (زیر طبع امام شمس الحق ڈیانوی پبلشرز کراچی)میں شامل ہیں ۔