کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 57
سید شریف حسین بن مولانا سید محمد نذیر حسین تھے۔ دہلی سے فراغت کے بعد آپ امرتسر تشریف لے گئے اور مولانا سید عبداللہ غزنوی کی صحبت میں 8ماہ گزارے اور ان سے اکتساب فیض کیا۔ اور اس کے بعد حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے ۔ آپ بڑے اچھے اور خوش اخلاق آدمی تھے، کتابیں جمع کرنے کا بہت شوق تھا ۔اور کتابوں کے حصول کیلئے بڑی رقم خرچ کرتے تھے عراق و عرب سے بہت سی کتابیں لائے ائمہ میں سے کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے اور دلیل کی بنیاد پر فتویٰ دیتے تھے تفسیر القرآن بالقرآن میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا روزانہ درس قرآن و حدیث دیتے تھے۔ تصنیف میں ان کی ایک ہی کتاب’’رحمت الودود علی رجال سنن ابی داؤد (عربی)ہے 1338ھ میں انتقال کیا۔ مولانا قاضی طلاء محمد خان پشاوری [1] مولانا قاضی طلاء محمد خان بن قاضی محمد حسین بن محمد اکبر خان برصغیر(پاک و ہند)کے مبتحر عالم دین تھے۔علوم اسلامیہ میں یگانہ روزگار تھے آپ کا تعلق پشاور کے ایک علمی خاندان سے تھا انکے بھائی مولانا عبدالکریم قاضی القضاۃ افغانستان تھے اور انکے بھتیجے عبدالقادر والی کابل شیر علی خان کے وزیر تھے۔ مولانا قاضی طلاء محمد خان نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی بعد ازاں آپ شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے تفسیر،حدیث،اور فقہ کی تعلیم حاصل کی دہلی سے فراغت کے بعد مولانا سید عبداللہ غزنوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی صحبت اختیار کی اور ان سے اکتساب فیض کیا۔ مولانا قاضی طلاء محمد خان پشاوری بڑے ادیب،فاضل اور صاحب علم وفضل تھے مولانا فضل حسین بہاری لکھتے ہیں کہ : [1] قاضی طلا محمد خاں پشاوری رحمہ اللہ کےحالات’’آسمان علم و فضل کے درخشاں ستارے‘‘از محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (زیر طبع امام شمس الحق ڈیانوی رحمہ اللہ پبلشرز کراچی)میں شامل ہیں ۔