کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 56
مولانا حافظ ابراہیم آروی بخیال ہجرت 1900ء مطابق 1318ھ مکہ معظمہ روانہ ہوئے کچھ عرصہ طائف میں گزارا۔ اسکے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے مدینہ میں آپکا قیام ایک برس رہا ۔اور درود و سلام پڑھنا شغل تھا۔ ذی قعدہ 1309ھ بقصد چوتھے حج کیلئے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آئے۔ 6ذی الحجہ 1319ء بحالت احرام ہیضہ کی بیماری سے انتقال کیااور جنت المعلیٰ میں دفن ہوئے۔مولانا فضل حسین بہاری لکھتے ہیں کہ ’’افسوس کہ ان کی بے وقت موت سے مسلمانوں میں نہ صرف ایک عدد کی کمی ہوگئی بلکہ قوم کو من حیث القوم سخت نقصان پہنچا کیونکہ آدمی غایت ہی بااخلاص نیک نیت،سچے اور جوشیلے تھے۔ جس وقت جو امر حق ان کے ذہن میں ثابت ہوگیا ایک منٹ کے لئے بھی اس پر عمل کرنے میں دیر نہیں کرتے تھے اور نہ اسکی پرواہ کرتے کہ لوگ مضحکہ اڑائیں گے۔یا متلون المزاج کہیں گے اسی لئے ان کی نماز اور ان کا وعظ ایسا پراثر تھا کہ اب انکو نہ صرف آنکھیں بلکہ دل ڈھونڈتا ہے آخر میں طبیعت کا رجحان تصوف کی طرف اور زیادہ ہوگیا تھاعن قریب تبلیغ اسلام کیلئے یورپ و،افریقہ اور امریکہ جانیوالے تھے اور تبلیغ احکام کیلئے مصر، شام،روم او رعراق کا سفر کرنیوالے تھے اس نقصان کی تلافی اب اللہ کے ہاتھ ہے۔(الحیاۃ بعد المماۃ:242 ) مولانا رفیع الدین شکرانوی بہاری [1] مولانا رفیع الدین بن بہادر علی بن نعمت اللہ صدیقی مشہور عالم اور محدث تھے1261ھ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم مولانا محمد احسن گیلانی سے حاصل کی اس کے بعد دہلی کا سفر کیا اور مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی سے صحاح ستہ،موطا امام مالک اور تفسیر جلالین پڑھیں آپ کے شریک درس مولانا [1] مولانا رفیع الدین شکرانوی ؒ کے تفصیلی حالات’’آسمان علم و فضل کے درخشاں ستارے’’از محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (زیر طبع امام شمس الحق ڈیانوی ؒ پبلشرز کراچی)میں شامل ہیں ۔