کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 53
(7)مولانا غلام نبی الربانی سوہدروی (8)مولانا حافظ محمد رمضان پشاوری (9)مولا عبدالوہاب صدری دہلوی (10)مولانا قاضی ابو عبداللہ محمد خان پوری مولانا حافظ ابراہیم آروی[1] مولانا حافظ ابو محمد ابراہیم بن عبدالعلی آروی کا شمار برصغیر کے مشہور علماء واعظین میں ہوتا ہے آپ 1264ھ میں’’آرہ’’صوبہ بہار میں پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز حفظ قرآن مجید سے کیا اور ابتدائی کتابیں مقامی علماء سے پڑھیں اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے دیو بند اور علی گڑھ کا سفر کیا اور مولانا یعقوب بن ملوک علی اور مولانا لطف اللہ سے استفادہ کیا اسکے بعد واپس وطن آئے اور مولانا سعادت علی بہاری سے بقیہ کتابیں پڑھ کر سند فراغ حاصل کی۔ حدیث کی تحصیل کے لئے سہارن پور کا سفر کیا اور مولانا احمدعلی محدث سہارن پوری سے صحاح ستہ پڑھا اس کے بعد آپ حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے۔ اور حجاز میں شیخ احمد بن زینی دہلان،شیخ احمد بن اسعد دہان مکی اور شیخ عبداللہ بن حمید سے سند و قرأت و اجازت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ میں آپ نے شیخ عبدالغنی مجددی سے حدیث کی سند و اجازت حاصل کی۔ حرمین شریفین سے واپس آکر مولانا سید محمدنذیر حسین دہلوی،مولاناشیخ قاضی محمد مچھلی شہری اور علامہ حسین بن محسن الیمانی سے بھی حدیث کی سند واجازت حاصل کی۔دہلی سے آپ امرتسر آئے اور مولانا سید عبداللہ غزنوی کی صحبت اختیار کی۔اور ان سے اکتساب فیض کیا۔ [1] مولانا حافظ ابو محمد ابراہیم آروی رحمہ اللہ کے تفصیلی حالات’’تاریخ علم و عمل کے چند غیر فانی نقوش ‘‘از محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (زیر طبع امام شمس الحق ڈیانوی ؒ پبلشرز کراچی)میں شامل ہیں ۔