کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 45
واہ عبداللہ فنا فی اللہ شد از جناب باریش تسلیم باد چشمہ فیض کرامت شانِ او رونق افزا چشمہ تکریم باد ارحم الراحمین۔ان لوگوں کو باپ کی وراثت کے طور پر جادہ شریعت پر گامزن رکھے۔ یہ عاجز اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ لوگوں کیلئے دعا اور دونوں جہانوں میں خیر وخوبی کے لئے استدعا کرتا ہے۔قبول فرمائیں ۔ زیادہ سلام خیرالخاتم‘‘۔(الحیاۃ بعد المماۃ:176) مولانا سید نواب صدیق حسن خان مولانا سید نواب صدیق حسن خان مرحوم فرماتے ہیں ۔ ’’چراغ اگر ہزار چرخ زند مشکل کہ چین ذات جامع کمالات برروئے ظہور آرد‘‘۔(تقصار من تذکار جیود الاحرار:192) ’’آسمان اگر ہزار بار بھی گردش کرے تو مشکل ہے کہ اب ایسی جامع کمالات ہستی معرض وجود میں آئے‘‘۔ دوسری جگہ نواب صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ : ’’سید عبداللہ غزنوی کیا ہی خوب بزرگ تھے وہ حدیث نبوی اور مسنون راہ باطن کے علم کے جامع تھے لوگوں کو راہ حق دکھانے میں وطن کے اندر بدعتیوں سے بڑی بڑی مشقتیں برداشت کیں۔عبادت و ریاضت میں بڑی مشغولیت رکھتے تھے۔ علم حدیث کی اشاعت اور اتباع سنت کے سلسلہ میں انہوں نے بڑا کام کیا۔معاصرین کے اندر اس باب میں کوئی ان جیسا دکھائی نہیں دیتا۔آپ اشاعت حدیث کا ایک آلہ اور بدعات و محدثات کے میٹ دینے کا ایک ذریعہ تھے اصول اور فروع دونوں میں سلف صالحین کے طریقہ پر