کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 39
اس تشہیر اور زدو کوب سے فارغ ہوئے تو آپکو بیٹوں سمیت قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔اور دوسال تک قید رہے‘‘۔(تاریخ اہل حدیث :436) دوسال کے بعد آپ رہا ہوئے تو امیر افضل خان نے وفات پائی تو اسکے بعد امیر اعظم خان تخت پر بیٹھا تو اس نے آپکی جلاوطنی کا حکم صادر کر دیا۔تو آپ غزنی سے پشاور تشریف لے آئے۔ پشاور جلا وطنی اور امر تسر میں مستقل سکونت جب امیر محمد اعظم خان کا حکم جلا وطنی آپ کو ملا تو آپ مع اہل و عیال غزنی سے پشاور پہنچے چنانچہ پشاور میں آپ نے کچھ دن قیام کیا او راس کے بعد آپ مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر تشریف لے گئے۔ اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ مولانا سید عبداللہ غزنوی 15سال تک مصائب و آلام کا شکار رہے اب امرتسر میں کافی سکون ملا اور مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات ملی ۔ خدمات امرتسر میں قیام کے بعد آپ درس و تدریس،وعظ و تبلیغ،توحید و سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کی تردید میں مشغول ہوئے۔امر تسر کو آپ نے روحانی مرکز قرار دیا۔ اور دوسرے تین مراکز جو درس و تدریس،تصنیف وتالیف اور جہاد سے متعلق تھے دہلی، بھوپال او رپٹنہ تھے۔[1] درس و تدریس مولانا سید عبداللہ غزنوی جب غزنی سے آکر امرتسر میں قیام پذیر ہوئے تو آپ کے دل میں توحید و سنت کی اشاعت اور بدعات اور مشرکانہ رسوم سے پاک اسلام کی تبلیغ کا بے پناہ جذبہ موجزن تھا۔ چنانچہ آپ نے مدرسہ غزنویہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ قائم کی جس میں آپ اور آپ کے صاحبزادگان عالی مقام مولانا عبداللہ بن عبداللہ، مولانامحمد بن عبداللہ،مولانا عبدالجبار بن عبداللہ اور [1] ان چاروں مراکز کی تفصیل مصنف نے اپنی کتاب’’اہل حدیث کے چار مراکز‘‘میں لکھی ہے۔(ناشر)