کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 32
مولانا بدر الزمان محمد شفیع نیپالی لکھتے ہیں کہ : ’’گمان غالب یہ ہے کہ آپ کو ابتداً والدہ نے تعلیم دی ہوگی کیونکہ وہ کافی پڑھی لکھی تھیں ‘‘(الشیخ عبداللہ غزنوی160) علامہ حبیب اللہ قندھاری کی خدمت میں علامہ حبیب اللہ قندھاری اس وقت اپنے علاقہ کے جید عالم اور صاحب کمالات تھے۔1213ھ میں قندھار میں پیدا ہوئے علمائے قندھار،ایران، اور عرب سے استفادہ کیا 25سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے اور قندھارمیں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا 1241ھ میں جب حضرت سید احمد شہید اور مولانا شاہ محمد اسمعیل شہید دہلوی اپنے قافلہ کے ہمراہ قندھار پہنچے تو علامہ حبیب اللہ قندھاری نے حضرت شاہ اسمعیل شہید کی صحبت اختیارکی اور ان سے مستفیض ہوئے ۔ علامہ حبیب اللہ قندھاری بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔آپ نے مختلف موضوعات پر پشتو، عربی اور فارسی میں 35کتابیں لکھیں ۔آپ نے 52سال کی عمر میں رمضان 1265ھ میں وفات پائی ۔[1] مولانا سید عبداللہ غزنوی نے بعض علوم اسلامیہ میں علامہ حبیب اللہ قندھاری سے استفادہ کیا اور اسی سلسلہ میں آپ نے غزنی سے قندھار کا سفر کیا اور علامہ قندھاری کی صحبت اختیار کی۔ مولانا سید ابوبکر غزوی لکھتے ہیں کہ : ’’شیخ حبیب اللہ قندھاری کے چشمہ علم سے پیاس بجھانے کی خاطر آپ سفر کی سختیاں جھیلتے ہوئے قندھار پہنچے کچھ مدت ان سے استفادہ کیا او روطن لوٹ آئے اس کے بعد جب کچھ مشکل مسئلہ پیش آتا آپ انہی کو لکھ بھیجتے حضرت شیخ کا جواب ہمیشہ محققانہ ہوتا۔اس کے کچھ مدت کے بعد مولانا عبداللہ غزنوی نے دوبارہ قندھار کا سفر کیا اور بعض مشکل کے حل کیلئے اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو محقق قندھاری نے علماء کی محفل میں فرمایا : [1] ملاحظہ ہو : اردو معارف اسلامیہ :7؍890۔888