کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 25
’’شمادر اثناء راہ بودی کہ مراالہام شد کہ مژدہ باد کہ مسیحا نفسے می آید ‘‘ اور اس کی تعبیر یہ بیان فرمائی کہ’’از دست شما اشاعت توحید وسنت بسیار خواہد گشت انشاء اللہ تعالیٰ’’اور پھر دنیا نے مولانا رفیع الدین کی خدمت دین و سنت کو ملاحظہ بھی کیا۔[1] سید عبداللہ غزنوی کثیر الاولاد تھے،تمام صاحبزادے علم دینی کی دولت سے مالامال،فرزند اکبر مولانا محمد غزنوی نے انکی حیات ہی میں جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔علامہ اقبال اپنے مکتوب گرامی بنام محمد دین فوقؔ19دسمبر1922ء میں رقمطراز ہیں : ’’مولوی عبداللہ غزنوی درس حدیث دے رہے تھے کہ ان کو اپنے بیٹے کے قتل کئے جانے کی خبر ملی ۔[2]ایک منٹ تامل کیا، پھر طلباء کو مخاطب کرکے کہا’’برضائے او راضی ہستیم بیائید کہ کا رخود کیم ‘‘(ہم اس کی رضا پر راضی ہیں آؤ ہم اپنا کام کریں )۔یہ کہہ کر پھر درس میں مشغول ہوگئے‘‘۔(انوار اقبال :71۔72) سبحان اللہ کیا پاک روحیں تھیں ۔ سید عبداللہ غزنوی کے بارہ صاحبزادوں کے اسمائے گرامی سے آگاہی ہوتی ہے،جن کے نام کتاب ہذا میں بھی اپنے محل پر فاضل مصنف نے رقم کئے ہیں،مگر مکتوب گرامی سید نذیر حسین محدث دہلوی بنام امام ابو الطیب شمس الحق عظیم آبادی میں انکے ایک صاحبزادے’’عطا اللہ ‘‘کا ذکر آیا ہے او ریہ نام سید عبداللہ غزنوی کے سلسلہ اولاد کے ضمن میں انکے کسی سوانح نگار نے رقم نہیں کیا ہے ۔’’ مکاتیب نذیریہ’’تو ہماری نگاہ سے نہیں گزری،یہ مکتوب گرامی مولانا محمد عزیر سلفی نے’’حیاۃ المحدث شمس الحق و اعمالہ’’(ص:44)میں معرب نقل کی ہے،ضروری ہے کہ اس تحریر کو یہاں درج کر دیا جائے۔وھو ھذا۔ [1] مولانا رفیع الدین شکرانوی رحمہ اللہ کی پاکیزہ سیرت کے جلوے راقم نے اپنی کتاب’’آسمان علم وفضل کےدرخشاں ستارے’’میں رقم کیے ہیں یہ کتاب ابھی غیر مطبوعہ ہے ۔ [2] قتل نہیں بلکہ وفات کی خبر ملی ۔