کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 23
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی سخن ہائے گفتنی اللہ رب العزت نے اپنے بعض بندوں پر اپنی نعمتوں کا اتمام اس طرح کیا کہ انہیں علم و عمل سے بہرہ وافر دیا اورا نکے بعد ان کے خاندان میں علم کی تخم ریزی ہوئی اور دو تین پشتوں تک مسلسل اس خاندان کو عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ قارئہ ہند کے متعدد خانوادے اس نعمت بیکراں سے بہرئہ یاب ہوئے اسی سلسلہ طلائے ناب میں غزنی کے ایک مبارک خاندان کا شمار بھی ہے جسکی نسبت حضرت عارف باللہ سید عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف ہے ۔ سید عبداللہ غزنوی اللہ کے ولی، اسلام کے خادم اور اپنے زمانے کے بڑے صاحب عزیمت بزرگ تھے۔ جب غزنی سے امیر ریاست نے علماء سوء کے بہکاوے میں آکر جلاوطن کیا تو آپ نے امرتسر کو اپنا جائے سکونت قرار دیا،آپ کی سیرت کی سب سے بڑی خوبی نفس امّارہ کو زیر کرناتھا حتی کہ آپ نفس لوامہ کے مرحلے سے گزر کر نفس مطمئنہ کے مقام پر پہنچ گئے۔ مشہور محدّث اور سنن ابی داؤد کے شارح الامام ابو الطیب محمد شمس الحق الصدیقی الدیانوی العظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور تصنیف’’غایۃ المقصود فی حل سنن ابی داؤد’’کے مقدمہ میں سید عبداللہ غزنوی کا ذکر دلّی عقیدت و احترام کے ساتھ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : ’’ آپ ہیں شیخ،علامہ، سید، سند،مقدس کمالات والے، آخری زمانہ میں جو عزیز الوجود ہیں۔مولانا اور فضل کے اعتبار سے ہم سے بہتر محمد اعظم بن محمد بن محمد بن محمدشریف معروف بہ عبداللہ غزنوی امرتسری ۔آپ تھے اللہ کو پہچاننے والے، اس کی رضا کیلئے سب کچھ کرنیوالے، کثرت ذکر کرنیوالے عابد، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے متذلل،خاشع،خاضع،پرہیز گار،متواضع،حنیف،کامل،بارع، ملہم، مخلص صدیق کریم کہہ کر مخاطب کئے