کتاب: غزنوی خاندان - صفحہ 101
جامعہ سلفیہ بنارس میں منتقل ہوگیا۔[1] فراغت تعلیم کے بعد : مولانا سید محمد داؤد غزنوی نے مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری سے جملہ علوم اسلامیہ کی تحصیل کے بعد واپس امرتسر تشریف لائے اور دارالعلوم تقویۃ الاسلام امرتسر میں تدریسی خدمات پر مامور ہوئے جس دور میں آپ تقویۃ الاسلام امرتسر میں تدریس پر مامور ہوئے وہ دور رابع کہلاتا ہے اسی دور میں آپ کے ساتھ مولانا عبدالغفور غزنوی،مولانا ابو اسحق نیک محمد اور مولوی غلام رسول پوٹھواری مدرس تھے درس وتدریس کیساتھ ساتھ تبلیغ اشاعت اسلام اور تحریک آزادی وطن سے بھی دلچسپی رکھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے امرتسر میں ا پنا ایک مقام پیدا کر لیاتھا۔ سیاسی زندگی : 1919ء کا سال ہندوستان کے لوگوں کے لئے بڑا کٹھن سال تھا اور یہ دور انگریز کے جبرو استبداد کادور تھا ملک میں مارشل نافذ تھا 1919ء میں جلیانوالہ باغ امرتسر میں جنرل ڈائز نے ہندوؤں سکھوں اور مسلمانوں کے ایک مشترکہ جلسے میں گولی چلادی جس میں سینکڑوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔مولانا داؤد غزنوی اپنے چچا زاد بھائی مولانا اسمٰعیل غزنوی کے ہمراہ اس جلسے میں شریک ہونے کے لئے گھر سے نکلے۔ راستہ میں آپ ایک پان فروش کی دکان پر پان کھانے کے لئے رک گئے اسی اثناء میں جنرل ڈائز اپنی گوراراج کے ہمراہ جلیانوالہ باغ کی طرف جاتے ہوئے ان کے قریب سے گزرا۔ مولانا داؤد غزنوی اور مولانا اسمٰعیل غزنوی پان کھاکر ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ جنرل ڈائز گولی چلاکر سینکڑوں آدمیوں کو موت کی نیند سلاکر واپس آرہا تھا۔ اس حادثہ نے مولانا داؤد غزنوی کو سیاست میں قدم رکھنے پر مجبور کیا۔ چنانچہ آپ نے انگریز کے [1] عالم کبیر حافظ عبداللہ غازی پوری کے تفصیلی حالات’’تاریخ علم و عمل کے چند غیر فانی نقوش’’از محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (زیر طبع امام شمس الحق ڈیانوی پبلشرز کراچی)میں شامل ہیں ۔