کتاب: غم کاعلاج - صفحہ 64
سعادت ختم کیا اور اپنی صحت و عافیت برباد کی۔ نتیجتاً دورِ حاضر کی بہت ساری نفسیاتی اور روحانی بیماریوں نے انہیں گھیر لیا۔ مثلاً: بے چینی، خوف، غم، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر اعصابی اور مفاصل کی بیماریاں۔ پھر دائیں بائیں اور اندر باہر دوڑنا شروع کیا۔ جس میں اپنا مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی بیماریوں کے علاج کی تلاش میں ادھر اُدھر، دائیں بائیں، اندر باہر دوڑنے لگے اور اس بیماری اور مصیبت کے علاج کے لیے روپیہ اور محنت صرف کرنے لگے۔ مگران کی کوششوں اور اخراجات کے باوجود خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا اور نہ ہی مکمل شفا ملی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات نے ان بیماریوں سے شفا کی تلاش میں ایک گوشہ پر توجہ دی اور دوسرا گوشہ ترک کر دیا۔ انسان کی جسمانی بیماریوں کے علاج میں دواؤں، جڑی بوٹیوں اور آپریشنوں پر توجہ دی۔اللہ پر ایمان، اس سے تعلق،قرآنِ کریم اور ذکر و دعا کے ذریعہ علاج کو فراموش کر دیا، جس سے انسان کو معنوی اور نفسیاتی قوت ملتی ہے۔ اور جس قوت سے غم خود کو بہت سی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں پڑنے سے بچاسکتا ہے، یا ان میں پڑنے کے بعدبآسانی ان سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ ایک مسلمان جس کے اندر ایمان و تقویٰ ہوتا ہے وہ اکثر و بیشتر ان بیماریوں سے محفوظ ہوتا ہے۔ اسے دلی سکون رہتا ہے، خوش و خرم اور پر اُمید ہوتا ہے۔ بھلے اس کی زندگی میں مادی تنگی کیوں نہ ہو۔ چاہے وہ کچھ معاشرتی مشکلات وغیرہ سے دو چار ہو، جس سے کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہتا۔