کتاب: غم کاعلاج - صفحہ 47
((لَا یَفْرُکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَۃً، إِنْ کَرِہَ مِنْھَا خُلُقًا رضِیَ مِنْھَا آخَرَ۔)) [1] ’’کوئی مومن مرد اپنی مومن بیوی کے ساتھ دشمنی نہ کرے۔ اگر اس میں ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی۔‘‘ اس حدیث مبارکہ کے دو بڑے فائدے ہیں: الف:…بیوی، عزیز رشتہ دار، ساتھی، ماتحت کام کرنے والے کارکن اور ہر اس شخص کے بارے میں اس حدیث میں مکمل راہنمائی ہے کہ جس کے اور آپ کے مابین تعلق اور میل ملاقات ہو۔ لازمی ہے کہ اپنے نفس کو اس بات کے سپرد کیجیے کہ ضرور اس میں کوئی عیب، نقص ہو یا کوئی ایسا معاملہ کہ جسے آپ ناپسند کرتے ہوں۔ تو جب آپ اس میں کوئی ایسی بات دیکھیں تب؛ اس کے اور اس معاملہ کے مابین قربت پیدا کیجیے کہ جو آپ پر (اس کی خدمت وغیرہ) واجب ہے۔ اور آپ کے لیے محبت کو قائم رکھنا اور تعلق کی ضرورت کو، اس عمل میں جو خوبیاں اور خاص و عام مقاصدہیں اس یاد اور نصیحت کے ساتھ قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس کے بُرے اخلاق و عادات سے چشم پوشی اور اچھائیوں کو ہمیشہ مد نظر رکھنا تعلق اور ساتھ کو سدا قائم رکھے گا۔ ب:…دوسرا فائدہ غم اور قلق و اضطراب کا زائل ہونا ہے۔ اور دونوں اطراف کے مابین راحت کے حصول کے ساتھ ساتھ اخلاص و نکھار باقی رہے گا اور [1] ) صحیح مسلم؍ حدیث: ۳۶۴۵۔